انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا ہے نہ ہو تب نیند نہیں آتی۔ اگر انسان کے پاس وافر مقدار میں پیسہ آجائے تو بھی اُسے سکون نہیں آتا اور اگر نہ ہوتو پھر تو ضروریات زندگی تنگ کرتی ہی کرتیں ہیں، لیکن یہاں سوچ کی بات یہ ہے کہ پیسہ تو صرف ضروریات زندگی کے لیے لازمی ہے اگر انسان تین وقت کی روٹی کھانے پینے کی اشیاءاور ضروریات زندگی کی چیزیں موجود ہوں تو پیسے کی ضرورت کہاں رہ جاتی ہے،آج بھی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو دووقت کی روٹی کھاکر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اُن کو مزید اس سے زیادہ کی ہوس بھی نہیں ہے۔ اُن کے لیے سب سے زیادہ خوشی کا مقام صرف اُن کے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا ہوتا ہے کہ اُنہیں وہ مل جائے، لیکن یہاں آپ اگر اس چیز پر غور کریں کے آپ اپنی ضروریات زندگی کو جتنا محدود کریں وہ آپ کی پریشانی میں کمی کا باعث اور انہی خواہشات کو جتنا بڑھاوا دیںگے وہ آپ کو اُتنا تنگ کریں گی، لیکن یہاں اصل مسئلہ تو میرے خیال سے پیسے سے بڑھ کر جو درپیش آتا ہے وہ ہوس اور لالچ ہے۔انسان فطرتی طور پر لالچی ہے اُس کو جتنا ملتا ہے وہ اُس سے بھی بڑھ کر خواہش کرتا ہے، لیکن اگر اس خواہش کو اللہ کی ذات تک منحصر کیا جائے تو بات سمجھ آتی ہے کہ اللہ پاک خود فرماتا ہے کہ مجھ سے مانگنے میں کنجوسی مت کرو، دل کھول کر مانگو اور محنت کرو میں اُس محنت کو رائیگاں نہیں جانے دوں گا لیکن مسئلہ تو تب آتا ہے جب ہم اس امر پر توجہ نہیں کرتے اور اللہ کی مخلوق سے چھینا جھپٹی شروع کردیتے ہیں۔ وہ چھینا جھپٹی لازمی نہیں چوری کی صورت میں ہی ہو وہ اور بھی بڑی صورتوں میں سامنے آتی ہے امانت میں خیانت، ناپ تول میں کمی یا دونمبری سے کمائے جانے والا پیسہ، جھوٹ بول کر حاصل کیے جانے والی رقم۔ تو جیسا میں بات کررہی تھی لالچ میں جہاں بہت ہی برائیاں ہیں وہاں سب سے بڑی برائی انسانی ذہن کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جہاں بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے وہاں ایک صلاحیت حساب کتاب کی ہے۔ انسان جب کسی چیز کو دیکھتا ہے تو سب سے پہلے اُس کی کیلکولیشن کرتا ہے۔ اُس حساب کتاب کے بعد ہم اگلے فیصلے کرتے ہیں۔ مگر جب ہم لالچ کرتے ہیں تو ہمارا دماغ مخصوص کیمیکل پیدا کرتا ہے وہ کیمیکل ہماری کیلکولیشن کی صلاحیت کو تباہ کردیتا ہے اور ہم غلط فیصلے کرتے ہیں، اگر انسان سوچے تو یہ سب ہم کرتے کس لیے ہیں۔ سکون دہ زندگی کے لیے۔ اگر اس سب کے بعد بھی سکون ہی میسر نہیں تو فائدہ اُن سب کا۔ خوشحالی کے لیے تو یہ ضروری ہے کہ آپ اپنے کیے کام سے کتنے مطمئن ہیں تو جب یہ دونوں صورت حال ہی درپیش نہیں تو کیا کرنا اس لالچ کا اور اس لالچ سے جمع کیے گئے پیسے کا۔ آج ہم اپنے معاشرے میں اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کو ہر بندہ الجھن اور پریشانی کا شکار نظر آئے گا جس کے پاس دولت نہیں وہ بھی اور جس کے پاس وافر ہے وہ بھی تو اُس وقت لاشعوری طور پر ذہن اس گرہ کو کھولنے میں لگ جاتا ہے کہ بنیادی مسئلہ تو پیسہ ہے ہی نہیں۔ وہ تو ہمارا ذہن ہے جوایک چیز پر اکتفا نہیں کرتاہے آپ ایک چھوٹے بچے کو10 روپے کا نوٹ دے کر دیکھ لیں وہ کس قدر خوش اور مطمئن ہوگا کیوں کہ اُس کو خواہش اُس10 کے نوٹ تک محدود تھی۔ خوشی کے بھی اپنے طور طریقے ہوتے ہیں۔ ایک صفحے پر پڑھی ایک تحریر ذہن میں آگئی جہاںدوبچوں کی تصویر دکھائی گئی تھی اور ساتھ لکھا ہوا تھا کہ خوشی کے بھی اپنے ہی انداز ہیں، ایک بچہ کھلونے بیچ کر خوش ہوتا ہے تو دوسرا خرید کر۔
اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک سا بنایا ہے لیکن غریبی امیری کا ایک پیمانہ بھی تو مقرر ہے۔ وسیلے بھی تو بنانے تھے بخشش کے بہانے بھی۔ زکوٰة، فطرانے کا حصول بھی تو رکھنا تھا کہ دولت گردش میں رہے پیسہ امیر کے ہاتھوں سے غریب تک پہنچے اور اسی حکمت میں ہی زندگی کے سارے راز ہیں۔ جس دن ہم وہ راز جان جائیں گے شاید زندگی آسان ہوجائے۔

کالم نگار: ہومیوپیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

loading...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے