انسانی خواہشات

زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ایک بات جو کہ بہت غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ زندگی تو کسی کو بھی آسانی سے میسر نہیں ہے زندگی تو سب کچھ دے کر بھی امتحان کا نام ہے اور سب کچھ چھین کر بھی امتحان ہی لیتی ہے۔اور یہ امتحان بھی اکثر اوقات ایسے کڑے ہوتے ہیں کہ عقل تو حیران ہی ہو جاتی ہے کہ یہ سب ہے کیا اور ہم کیا کررہے تھے ابھی تک۔ ایک وقت میں انسان کی خواہشات بہت اونچی اوڑان میں ہوتی ہیں لیکن اس وقت زندگی اس کے ہاتھ باندھ دیتی ہے کہ وہ سب کچھ چاہتے ہوئے بھی اس خواہشات تک رسائی نہیں پاسکتا۔ پھر ایک وقت آتا ہے کہ دل اور دماغ ان خواہشات سے کنارہ کرنے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور جس وقت میں یہ سب ہو رہا ہو اس مقام پر زندگی ایک ایک کرکے ان خواہشات کی تکمیل کرنے کی طرف رخ کر لیتی ہے اگر کسی سکون دہ جگہ پر بیٹھ کر زندگی کو احتساب کے دائرے میں تولہ جائے تو اندازہ ہو گا کہ زندگی تو کسی کو بھی آسانی سے میسر نہیں ہے۔ مکمل تو صرف ایک خدا کی ذات ہے اور تو دنیا میں کچھ مکمل ہے ہی نہیں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی کمی تو مو جود ہی ہے۔ بھوڑ کے درخت کی چھاو¿ں کو جہاں اتنی ٹھنڈک اور راحت دے دی جاتی ہے وہاں اس کے پھل سے وہ تاثیر چھین لی جاتی ہے۔ جہاں کھجور کے درخت کو اتنا توانا بنا دیا جاتا ہے وہاں اس کے پھل میں اتنی ہی مٹھا س دے دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ اس کو گھنی چھاو¿ں سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ انسان جس کو اشرف الخلوقات بنا دیا گیا اس کے اندر خواہش پیدا کر دی جاتی ہے اب اگر ہم خواہش کی بات کرلیں تو خواہش جب حد سے تجاوز کر لیتی ہے تو وہ نشہ بن جاتی ہے اور نشہ کسی بھی صورت میں ہو ہے تو حرام ہی نا۔ کسی کو زندگی بہترین طریقے سے جینے کا نشہ ، کسی کو دولت کا نشہ ، کسی کو محبت کا نشہ ، اور کسی کو اقتدار یعنی کرسی کا نشہ ، اب نشوں میں جو چیز میری سمجھ میں آتی ہے ہر نشہ جان لیوا ہے چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو۔ لیکن اقتدار کا نشہ سب سے خطرناک ثابت ہوتا ہے انسان اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہر چیز کو فراموش کر دیتا ہے اب بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی کہ ہم نے کسی چیز کو پانے کی خواہش کی وہ ہمیں حا صل ہو گئی ۔ اور اب اصل امتحان تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے اب ہم اپنی موجودہ صورتحال کو دیکھیں تو یہ ساری کڑیاں آہستہ آہستہ سمجھ میں آنا شروع ہو جا ئیں گی۔ ہمارے لیڈر آتے ہیں لوگوں کو خواب دکھاتے ہیں 5 سال میں دنیا کو تبدیل کرنے کے دعوے بھی کرتے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کے تبدیلی صرف کہنے سے نہیں عمل سے ہی آئے گی عوام اس حکمران کو ووٹ ڈالتی ہے وہ پارٹی جیتتی ہے اور کامیابی کا سفر وہاں فل سٹاپ۔ جب کہ سفر تو وہاں سے شروع ہونا چاہیئے جو کہ ہمارا ماضی اور ہمارا حال تقریبا 60 فیصد سمجھنے سے قاصر رہیں ہے ہاں تو بات کر رہے تھے ہم نشہ چاہے کسی بھی صورت ہو محبت ہو دولت ہوآرام ہو یا اقتدار کسی بھی صورت میں ہو واپسی کا رخ اختیار تو کرتا ہی ہے جس طرف سے بھیجا گیا ہوتا ہے۔اس جگہ پر مجھے ایک تحریر یاد آتی ہے جو کچھ عرصہ پہلے نظروں سے گزری اور ذہن میں نقش ہو گی ہے محبت جس طرف سے آتی ہے وہ وہی کا رخ کرتی ہے بات گہری تھی پر سمجھنے میں زندگی گزر گئی۔ موجودہ صورتحال میں یہ بات واضع ہے کہ دنیا کا وہ ملک جو خود کو سپر پاور کہتا تھا ہر وہ دعوے دار جس کا یہ دعوہ تھا کے اس کے لیے کوئی کام نا ممکن نہیں ہے ہر کچھ کر گزرنے کو تیار تھا (نعوذ باللہ )خود کو خدا سمجھ بیٹھے تھے اللہ نے تو کہا ہے کہ سب کچھ معاف کر دوں گا شرک نہیں میں ڈھیل دیتا جاو¿ں گا لیکن وہ یہ بھی تو کہتا ہے کہ میرے عذاب سے ڈرو بے شک میں بہت درد ناک عذاب دینے والا ہو تو اس کو یہ سب کیسے گوارہ ہو سکتا تھا جہاں دنیا اپنے عیش و عشرت میں مگن تھی وہاں ایک معمولی سا وائرس (کورونا) جو کہ آنکھ سے نظر بھی نہیں آتا وہ آیا اور 214 ممالک کی سلطنت کو دھرم بھرم کر دیا۔ اس کورونا کی لپیٹ سے خود کو سپر پاور کہنے والے ممالک بھی گھٹنوں کے بل گر پڑے ہر کوشش کے باوجود بھی وہ اس نے بچ پائے اور ہر ایک کو خدا یاد آیا ایک مسلمان ہونے کی حثیت سے ہمارا تو یہ یقین ہے کہ خدا کی طرف رجوع کیا جائے تو بے شک وہ ہر وبا کو ہر تکلیف کو ختم کرنے والا ہے موجودہ صورتحال میں پوری دنیا اسلامی طریقہ کار کی پیروی کیے ہوئے ہیں وہ چاہے لباس کے اعتبار سے ہو یا رہن سہن کے لحاظ سے تو ان سب باتوں کہ دیکھ کر یہ بات سمجھ آتی ہے کہ محبت وہی کا رخ کرتی ہے جہاں سے آتی ہے تو ہم بات کر رہے تھے امتحان کی زندگی میں امتحان تو ہوتے ہی ہیں وہ کڑے سے کڑے اور سخت سے سخت بھی ہوتے ہیں لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھے امتحان کوئی بھی بالاآخر کچھ نا کچھ سکھا کر ہی جاتا ہے وہ چاہے راحت ہو سکون ہو سبق ہو یا پھر اطمینان۔

کالم نگار۔۔۔ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

loading...

One comment

  1. علی رضا ہوسٹ پاپولر نیوز

    کمال گفتگو کمال انداز
    سچ فرمایا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے