معاشرے کی زبوں حالی

آپ کس سمت سے نکلیں گے بچاکے دامن
حادثے راہ میں ملتے ہیں فقیروں کی طرح

معاشرہ بہت سے ملے جلے پہلوؤں کا مجموعہ ہے۔ اِن میں کچھ پہلو مثبت ہوتے ہیں تو کچھ منفی۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے کرونا کی وجہ سے ملک کی بدلتی ہوئی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اِس کے ساتھ بہت سارا وقت خود کو دینے کے لیے نکل آیا۔ یہ وقت بھی شاید خداتعالیٰ کی نعمت ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ ہر آزمائش اور بیماری کسی نہ کسی طریقے سے انسان کو سبق سکھانے اور اُس کو اُس کے اصل تک پہنچانے کیلئے بھیجی جاتی ہے۔
تو شاید کرونا بھی ہمیں ہمارا احتساب کروانے کے لیے ہی بھیجا گیا۔ اس احتساب میں جہاں بہت ساری چیزوں کا جائزہ لیا وہاں معاشرے کی بداحوالی قابل رحم ہے۔ ہمارا معاشرہ سماجی اور اخلاقی اقدار سے دن بدن عاری ہوتا جارہا ہے۔
کل تک ہماری اقدار یہ تھیں کہ محلے کو اپنا گھر سمجھا جاتا تھا گاؤں میں کسی ایک ساتھ غلط ہوتا تھا تو سب یکجان ہوکر اُس کو انصاف دلانے میں لگ جاتے تھے، اگر کسی ایک جگہ پر کوئی برائی ہورہی ہوتی تھی تو اُس کو مل بانٹ کر دور کیا جاتا تھا سمجھایا جاتا تھا۔ محلے کے گزرگوں کو اپنا محافظ اور بچیوں بچوں کو اپنی ذمہ داری سمجھاجاتا تھا اور رشتوں کے احترام کی یہ کہانی ایک گھر ایک محلے ایک شہر تک نہیں بلکہ ملک و ملت تک جاپہنچتی تھی۔
مگر آج ہمارے معاشرے میں ہمسائے کو کیا ہمیں اپنے گھروں میں بھی تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔ کل انسٹاگرام پر سکرولنگ کرتے ہوئے انگلیاں اچانک ایک نقطے پر منجمد ہوگئیں۔ ایک لڑکی کی کچھ نازیبا تصاویر وائرس ہوگئیں جس کی وجہ سے اُس کے والد نے خودکشی کرلی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ اس سارے معاملے میں قصوروار کون ہے وہ جس نے تصاویر ھیجی یا پھر جس نے وائرس کی یا پھر وہ والدین جو اپنی اولاد پر اتنا زیادہ اعتبار کرلیتے ہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں15 سے16 ہزار افراد ہرسال خودکشی کرتے ہیں، جن میں تعلیم، صحت، انصاف تک رسائی نہ ہونے کیساتھ غربت، بے روزگاری اور محبت میں ناکامی، دھوکہ دہی ایک بہت بڑا مسئلہ ریکارڈ کیاگیا ہے۔
لیکن خیر یہ ایک وہ پہلو ہے جس سے مزید کئی پہلو جنم لیتے ہیں، یہ تو ایک فرد کی خودکشی کی کہانی ہے لیکن یہ وجوہات دیگر معاشرتی برائیوں کیساتھ مل کر سماج بھر کی خودکشی کا باعث بنتی ہے۔ دیکھا جائے تو انفرادی ہویا اجتماعی د ونوں خودکشیوں کی صورت میں ذمہ دار ریاست اور ریاست کا قانون ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ تمام ضروریات اور معاملات کی نگرانی اور ذمہ داری بالواسطہ یا بلاواسطہ ریاست کی ہوتی ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو شاید غلط نہیں ہوگا کہ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہاں انسان کے انفرادی تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں ہے لیکن کیا ہم صرف ریاست کو ہی ذمہ دار ٹھہرائیں گے تو سب مسائل ختم ہوجائیں گے۔ کیا یہاں ہماری کوئی ذمہ داری نہیں۔ بعض دفعہ جن چیزوں کو ذہن قبول نہیں کرپاتا وہ پل بھر میں ہوجاتی ہیں، آپ نوازشریف کی ہی مثال لے لیں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہ اقتدار سے ایسے جدا ہوں گے اور اُس کے بعد اِن کی زندگی سے جڑے دیگر واقعات سامنے آئیں گے۔ بہرحال یہ تو ایک چھوٹا سا نقطہ ہے۔ اس پہلو کا اصل مقصد تو معاشرے میں بڑھتی ہوئی برائی، بے حیائی اور آزادی ہے۔ ہماری نوجوان نسل کو جس قدر آسائشیں دے دیگئی ہیں کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے۔
سب سے پہلے جس چیز کو سوچنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکھاکیا رہے ہیں، ہم لبرل ہونے کے چکر میں کس مقام پر آکھڑے ہوگئے ہیں۔ شاید ہمیں خود بھی اس کا اندازہ نہیں ہے۔ انگریزوں نے کس قدر آسانی سے ہمارے ذہنوں کو اپنی طرف راغب کرلیا ہوا ہے۔
موجودہ صورت حال کو دیکھ کر اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ انگریزوں سے الگ ملک کی آزادی لینے میں تو ہم کامیاب ہوگئے لیکن ہمارے ذہنوں کو انگریز نے مفلوج کردیا، وہ آج بھی اُن کی غلامی میں ہے۔ وہ کس قدر آسانی سے اپنا کلچر ہماری نوجوان نسل میں منتقل کررہے ہیں۔ ایک ٹیلی فون، سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری پوری نسل کو کیسے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور پھر اس کے بعد اگر کوئی مصیبت اس بے جا دی گئی آزادی کی وجہ سے آتی ہے تو ہم گلے شکوؤں کی ایک لمبی لسٹ اﷲتعالیٰ کے سامنے لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک مسلم اور محب وطن ہونے کی حیثیت سے ہمارا اتنا تو سوچنا بنتا ہے نہ کہ اس سارے پروپیگنڈے کے پیچھے آخرکار ہے کون۔ کیا ہماری حکومت کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔
ایک ویڈیو گیم اگر24 گھنٹوں کے اندر بین ہوسکتی ہے، پوری دنیا میں کسی بھی جگہ بیٹھ کر اگر آپ یوٹیوب سے کسی کا تھوڑے سیکنڈ کا ڈیٹا کاپی کریں تو آپ کو فوراً کاپی رائٹ آجاتا ہے، یا پھر وہ ویڈیو ہی اُڑا دی جاتی ہے۔
لیکن معاشرے میں سوشل میڈیا کے ذریعے کبھی بے حیائی پھیلاتی ہوئی حرکات جو ہمارے معاشرے کو بلکہ آنیوالی نسلوں کو بھی تباہ کررہی ہے۔ ہم نے اپنی ثقافت کو چھوڑ کر ویسٹرن کلچر اپنالیا ہے اور پھر اِس کی وجہ سے ذہنی تناؤ، لڑائی، ڈپریشن یا خودکشی اتنی زیادہ کیوں ہورہی ہے یہ سوال تو بنتا ہی نہیں ہے۔
لیکن اس سارے معاملے میں اگر کوئی نقطہ سوچنے والا ہے وہ یہ ہے کہ آخرکار ذمہ دار ہے کون؟ تعلیم یافتہ تو بہت ہیں ہمارے معاشرے میں تو کیا اُن تعلیم یافتہ میں تعلیم کی کمی ہے، یاہماری حکومت جو اسلامی ریاست میں سوشل میڈیا کے ذریعے بورہی ہے یورپین کلچر کو بڑھتے ہوئے دیکھ کر روک نہیں پارہی، یا پھر ہمارے والدین جنہوں نے ضرورت سے زیادہ آزادی دے رکھی ہے؟۔

تحریر: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

مکافاتِ عمل

نہ چاہاتھا برا میں نے ،نہ میں نے بددعادی تھی فقط نمناک آنکھوں سے فلک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے