کائنات کے رازوںکو جاننے کی جستجو

خدا نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کی ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ وہ کائنات کے رازوں کو زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کرے ۔” جس طرح قرآن میں ارشاد ہے کہ ہم نے اس کائنات میں عقل والوں کے لئے نشانیاں رکھی ہیں ۔” پھر انسان نے کائنات کے رازوں کوجاننے کے لئے نت نئے تجربات بھی کئے ہیں ۔ صدیوں سے انسان کائنات کے رازوں کو جاننے کے لئے کوشش کرتا رہا ہے ۔ پر انے وقتوں میں لوگ زمین کے ماحول کو دیکھ کر پریشان ہو جاتے تھے ۔ بارش برسنے ، ہواو¿ں کے چلنے کا عمل ، سیلاب اور دوسری قدرتی طاقتوں مثلاً طوفانوں کو دیکھ کر بہت زیادہ ڈر جاتے ۔ انسانوں نے زمین ، سورج اوردوسرے سیاروں اورتاروں کے بارے میں بہت دلچسپ نظریات بنا رکھے تھے ۔ انسان ازل سے اس کائنات میں خدا تعالیٰ کی تخلیق کردہ بے شمار چیزوں کو تجسس اور تحقیق کی نگاہ سے دیکھتا آرہا ہے۔ اور ان میں سے بے شمار نعمتوں کو انسان نے اپنے مختلف مقاصد کے حصول کے لئے استعمال کیا ہے جیسا کہ ماضی میں انسان رات کے لمبے سفر چاہے وہ صحرا کا ہوتا یا سمندر کا راستہ انسان وقت کا تعین ستاروں کی سمت سے کرتا رہا ہے اوراپنے سفر کی طوالت کو باآسانی پورا کرتا رہا ہے ۔ اب چونکہ جدید دور ہے اور سائنس نے مختلف ایجادات اور دریافتوں کے ذریعے اپنا لوہا منوایا ہے۔ ہمارا آسمان ہزاروں لاکھوں کہکشاو¿ں کا منبع ہے اور ستاروں بھرا ہے ۔ ہمیشہ سے حضرت انسان کے تجسس کو جلا دیتا رہا ہے اور وہ اسی جستجو کی بنا پر مختلف مشینوں کی دریافت کے ذریعے ان اجرام فلکی کی حقیقت کو پرکھنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں تک ان اجرام فلکی کے فاصلوں کی دوری کو دیکھا جائے تو وہ بظاہر ہمیں آسمان پر صرف چمکتے ہی دکھائی دیتے ہیں مگر ان کا فاصلہ ہم سے اتنا زیادہ ہے کہ ان تک پہنچنے کے لئے کئی سالوں کا سفر درکار ہے جو کہ تقریباً نا ممکن ہے تو انسان زمین پر رہتے ہوئے ان اجرام فلکی کے مطالعے کے لئے جس سائنسی آلے یا مشین کا استعمال کر رہا ہے اسے دوربین کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشین ہے جو کہ ہمیں دور دراز اور لمبے لمبے فاصلوں کو چھوٹا کر کے وہاں پر موجود چیز کوبغور مشاہدہ کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اب تک سائنس دانوں نے بیشمار دوربینوں کے ذریعے آسمان کو پرکھا اور جھانکا ہے بنی نو انسان کو ایسے حقائق سے باخبر کیا جس سے انسان پہلے کبھی واقف نہ تھا ۔ سائنس دانوں کی خلا میں بھیجی گئی سب سے بڑی دور بین “ہیبل ٹیلی سکوپ” ہے جو کہ ایک ویوہیکل دور بین ہے اور اجرام فلکی کا واضح اور زبردست جائزہ بذریعہ تصاویر دکھاتی ہے اور جدید سائنس کا ایک بہترین کارنامہ ہے۔ اب دور جدید کی ایجادات کی دوڑ کے مدنظر حال ہی میں سائنس دانوں نے ایک نئی ٹیلی سکوپ جس کا نام “جیمز ویب” ہے جسے 2021ءکو خلا میں بھیجا جائے گا “جیمز ویب ٹیلی سکوپ” کا ذکر کرنے سے پہلے دور بین کی تاریخ کے بارے میں جانا بہت ضروری ہے۔ دورِ قریب میں مغربی دُنیا میں سب سے پہلے گلیلیو نے دور بین کا رخ آسمان کی طرف کیا جس سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا گلیلیو کی دور بین آسمان کی شکل کو بہتر طریقے سے دکھانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ گلیلیو نے سب سے پہلے چاند کی سطح کو دیکھا جس کو دیکھ کر گلیلیو پریشان ہو گیا کیونکہ پہلے یہ ہی تصور کیا جاتا تھا کہ چاند کی سر زمین پر کوئی بھی داغ نہیں ہے لیکن گلیلیو نے دیکھا کہ چاند کی سر زمین پر بڑے میدان اور پہاڑ موجود ہیں اس کے علاوہ گلیلیو نے دور بین کی مدد سے مشتری سیارے کو دیکھنے کا مشاہدہ کیا۔ گلیلیو نے سب سے پہلے مشتری سیارے کے چار چاند دریافت کیے ۔ جن کے نام آئی ، یورپا، گائنامیڈ ، اوکلیسٹو یہ گلیلیو کو اس وقت معلوم ہوا جب گلیلیو نے دیکھا کہ کوئی چیز مشتری کے سیارے کے گرد گردش کر رہی ہے اور یہ ایک نہیں بلکہ چار ہیں ۔ اس کے علاوہ گلیلیو نے دور بین سے زہرہ سیارے کو دیکھا تو گلیلیو کو معلوم ہوا کہ یہ سیارہ بھی ہمارے چاند کی طرح گھٹتا بڑھتا ہے۔ گلیلیو نے دور بین کی مدد سے سورج کی سطح کا بھی مشاہدہ کیا تو گلیلیو حیران رہ گیا کہ سورج کی سطح پر بہت بڑے بڑے کا لے دھبے ہیں ۔ بعد میں جدید سائنس نے معلوم کیا کہ یہ کالے دھبے دراصل سورج کے مقناطیسی میدان کے اثر کی وجہ سے وجود میں آئے مشہور زمانہ سائنس دان نیوٹن جس نے کشش ِ ثقل کو دریافت کیا تھا اس کے نظریات بھی علم فلکیات اور سائنس میں بہت اہم مقام رکھتے ہیں نیوٹن نے معلوم کیا کہ سیاروں کی سورج کے گرد گردش اور دوسرے اجرام فلکی ایک ہی قانون پر عمل کرتے ہیں نیوٹن نے کشش ثقل کے تین قانون بیان کیے تھے۔ نیوٹن کے تیسرے کشش ثقل کے قانون کے مطابق ہر عمل کارد عمل ہوتا ہے یعنی ہر عمل کے بعد اس کا ایک رد عمل ہو تاہے جدید زمانے کے راکٹ اسی قانون پر عمل کرتے ہوئے خلا میں سفر کرتے ہیںراکٹ کے اندر موجود گیسوں کا اخراج اس کو آگے کی طرف دھکیلتا ہے جس سے راکٹ کا خلا کی طرف کا سفر جاری رہتا ہے نیوٹن نے ایک دفعہ مشاہدہ کیا کہ جب روشنی محور کے اندر سے گزرتی ہے تو مختلف رنگوں میں سفر کرتی ہے ایک دفعہ نیوٹن ایک باغ میں درخت کے نیچے بیٹھا تھا تو ایک سیب زمین پر آگرا جس نے نیوٹن کے دماغ میں ایک سوال پیدا کیا کہ کوئی طاقت اس سیب کو زمین کی طرف کھینچ رہی ہے اس طرح زمین کی کشش نے چاند کو کھینچ رکھا ہے اس سے کشش ثقل کا قانون وجود میں آیا کائنات کے تمام اجرام فلکی اس قانون کے مطابق گردش کرتے ہیں ۔ مادہ کی وہ مقدار جو ان اجرام فلکی میں پائی جاتی ہے اس کے مطابق ان میں کشش ثقل ہے۔ کشش ثقل ہی وہ قوت ہے جس کی وجہ سے تمام سیارے سورج کے گرد گردش کرتے ہیں اس کے علاوہ کہکشاں کے اندر زمین اور دوسرے سیارے اور ستارے اپنے مدار سے باہرنہیں جاتے نیوٹن نے ایک الگ اور بہترین دور بین بنائی جس میں پہلی بار آئینے کا استعمال کیا جارہا ہے 1770 میں وینم ہر شل ماہر فلکیات نے ایک نئی دور بین بنائی جس کی مدد سے وینم ہر شل نے 1781ءمیں ساتواں سیارہ دریافت کیا جس کا نام یورنیس رکھا گیا ۔
سائنسی جستجو کا یہ سلسلہ تین صدیوں تک جاری رہا اور ایک کے بعد ایک ستارے اور سیارے کے متعلق انسان کو مزید بہتر معلومات حاصل ہوتی رہیں۔اب آتے ہیں موجودہ دور کی طرف۔ ہبل ٹیلی سکوپ سے بھی زیادہ طاقتور ٹیلی سکوپ خلا میں بھیجنے کا مشن جاری ہے ۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ ایک خلائی ٹیلی سکوپ ہے جو کہ ہبل ٹیلی سکوپ کی طرح بنائی گئی ہے۔ لیکن اس کا طریقہ کار ہبل ٹیلی سکوپ سے کافی ایڈوانس ہے۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ ہبل ٹیلی سکوپ سے بھی زیادہ انفراریڈریزولیوشن اور حساسیت کی حامل ہے ۔ اور جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے ذریعے وسیع پیمانے پر اجرام فلکی اور کائنات میں موجود دوردراز فاصلے پر کہکشاو¿ں اور سیاروں اور ستاروں کی مزید واضح اور بہترین تصویر اور ویڈیو حاصل کی جا سکے گی ۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کو ناسا، ای ایس اے، سی ایس اے جیسے خلائی ادارے زمین سے کنٹرول کریں گے اس کو مجموعی طور پر دس سال کے لئے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس ٹیلی سکوپ کا وزن تقریبا6500کلو گرام یعنی 14300پاو¿نڈ ہے اس کی لمبائی اور چوڑائی بالترتیب 20.197میٹر اور 14.162میٹر ہے اور اس میں 2000واٹ کی قابلیت پاور موجود ہے۔اس ٹیلی سکوپ کو 30مارچ 2021تک راکٹ ارینا سیکا کے ذریعے خلامیں بھیجا جائے گا اس کے بنیادی آئینہ کا سائز 6.5میٹر ہے جیمز ویب ٹیلی سکوپ کے اوپر لگائے گئے آینے اتنے جدید ہیں کہ لاکھوں میل دور سے آنے والی انفراریڈ لائٹس کو پکڑ سکتے ہیں۔ ان شیشوں کے اوپر اڑتالیس ہزار گرام سونے کی پرت چڑھائی گئی ہے ۔ ہبل ٹیلی سکوپ ہماری زمین کے مین اربٹ سے چند سو کلو میٹر دور ہے اور ہماری زمین کے گرد چکر لگاتی ہے لیکن جیمز ویب اگر خلا میں چھوڑی گئی تو یہ 15لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر جا کر سورج کے گرد چکر لگائے گی ۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ کااہم حصہ اس کی شیٹ ہے جو پانچ تہوں پر مشتمل ہے۔ اسے ایک بہت خاص مواد سے بنایا گیا ۔ اس کی حرارتی موصلیت اتنی گرم ہے کہ اس کا ٹیمپریچر کئی فارن ہائیٹ تک ہو سکتا ہے ۔ اور شیٹ کا دوسرا حصہ اتنا ٹھنڈا ہے کہ کوئی بھی چیز جم جائے یہ ہر لحاظ سے بہتر ٹیلی سکوپ ہے ۔ اس کا نام ناسا کے سائنس دان جیمز ویب کے نام سے رکھا گیا ۔ سائنس دان پچھلے پچیس سال سے اس کے اوپر کام کر رہے ہیں اس ٹیلی سکوپ کو 2021میں خلا میں بھیجا جائے گا اس ٹیلی سکوپ کا مقصد کائنات کے اُن رازوں کو جاننا ہے جو کئی سو سال سے انسان کے دماغ میں ہیں۔ مثلاً بِگ بینگ کے وقت کائنات کیسی تھی؟ کائنات میں کتنے ستارے ہیں؟ کتنی کہکشائیں ہیں ؟ کتنے سورج ہیں؟ کتنے چاند ہیں؟ کون سے سیارے پر زندگی موجود ہے ؟ اورکائنات کے اُن حصوں کو دیکھنا جہاں اندھیرا ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ٹیلی سکوپ کب تک خلا میں جائے گی ۔سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد پُر اُمید ہے کہ 2021ءمیں اس ٹیلی سکوپ کو آسمان میں چھوڑا جا سکے گا۔ یہ ہر طرح سے ایک بہترین ٹیلی سکوپ ثابت ہو گی اور ان رازوں سے پردہ اٹھانے میں مدد گار ثابت ہوگی جو کہ دوسری دوربین یا مشینیں معلوم نہ کر سکیں۔

کالم نگار: حمزہ بن اختر

loading...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے