کورونا وائرس سے ہلاکتیں اندازوں سے کم، تحقیق

کورونا وائرس سے اگرچہ 31 مارچ کی دوپہر تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی تاہم ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وبا سے ہلاکتیں ماضی میں کیے گئے اندازوں سے کہیں کم ہو رہی ہیں۔

بیماریوں اور وباؤں پر تحقیقی رپورٹس شائع کرنے والے طبی سائنسی جرنل دی لیکنٹ میں شائع تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اندازوں سے کہیں کم ہلاکتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے  نے کے مطابق دی لیکنٹ میں شائع تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ہلاکتوں، متاثرہ افراد اور ان کے علاج و معالجے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاکتیں ایک ماہ قبل لگائے گئے اندازوں سے کم ہو رہی ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں ماضی میں لگائے گئے اندازوں سے کم ہو رہی ہیں، تاہم اب بھی ان کی تعداد سیزنل انلفوئنزا سے ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے زیرو اعشاریہ 66 فیصد ہلاکتیں ہوں گی جو کہ ایک اعشاریہ سے بھی کم ہیں۔

ماضی میں امریکی ماہرین صحت سمیت دیگر افراد کہ چکے تھے کہ اندازے کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد میں سے 2 فیصد افراد موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ تحقیق صرف کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کے اعداد و شمار پر کی گئی ہے، اس تحقیقات میں وہ ہلاکتیں شامل نہیں کی گئیں جو کورونا سمیت دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔

ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں دیگر بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل کی گئی ہیں، کیوں کہ انہیں کورونا بھی لاحق تھا مگر صرف کورونا کی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تو اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اندازوں سے کم ہے۔

تحقیق میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ کورونا کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں 80 سال کی عمر کے افراد کی ہوتی ہیں جب کہ 9 سال کے بچوں کے مرنے کی شرح بھی بہت کم ہے۔

ساتھ ہی بتایا گیا کہ 40 سال کی عمر میں کورونا کا شکار ہونے والے ہر ایک ہزار افراد میں سے بمشکل 2 افراد کی ہی موت ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے