الفاظ کے دانت

الفاظ کے دانت نہیں ہوتے مگر یہ بری طرح کاٹ لیتے ہیں، یہ تحریر کہیں نظر سے گزری تھی آج ایسے ہی باربار ذہن میں آئے جارہی تھی، میں سوچتی ہوں لکھنا بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی کتنی بڑی نعمت ہے نہ، جو الفاظ آپ چیخ کر بول نہیں سکتے جو احساسات آپ سے الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے، اگر اُن سب کو آپ کاغذ پر بیان کرنا شروع کردو تو دل کس قدر ہلکا ہوجاتا ہے، اگر میں یہ کہوں کہ دل کا بوجھ بھی قدرے کم ہوجاتا ہے تو غلط نہیں ہوگا اور اس سب کو میں بڑے واضح طور پر سمجھ سکتی ہوں، میں بات الفاظ کی کررہی تھی کہ الفاظ بھی آپ کی زندگی بہت گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں، وہ اثر کبھی مثبت ہوتا ہے تو کبھی منفی اور الفاظ کا چناؤ بھی یہاں بہت معنی رکھتا ہے، بعض اوقات ہم اپنے الفاظ کے ذریعے بھی کسی بہت گمراہ اور برائی کی دلدل میں پھنسے ہوئے انسان کو اُٹھا کر سیدھے راستے کی طرف گامزن کروا دیتے ہیں، تو کبھی کسی بہت اچھے اور سیدھے راستے پر چلنے والے انسان کو اپنے الفاظ کی کانٹے دار آری سے اُلجھا کر رکھ دیتے ہیں کہ وہ بھی شاید یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ جو مجھے کہا جارہا ہے کیا یہ ہی تو درست نہیں ہے، الفاظ اور چناؤ اِن دونوں کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے، میں پہلے بھی آپ سے اپنے گزشتہ کالم میں عرض کرچکی ہوں کہ صاف گو کا مطلب یہ نہیں کہ آپ منافق نہیں ہیں اور یہ بھی نہیں کہ آپ بہت ہی اچھے ہو، اگر آپ کہتے ہوں کہ میں صاف گو ہوا ور اُس صاف گوئی میں بدتمیزی کی حدپار کردیتے ہوں کسی کی دل آزاری کردیتے ہو کہ کسی کا دل آپ کی وجہ سے دکھتا ہے یا آنکھ میں آنسو آجاتے ہیں اور وہی شخص اپنی آنکھوں سے بہتے اِن آنسوؤں کے ساتھ جائے نماز پر کھڑا ہوجاتا ہے سو سوچیں آپ کی وہ صاف گوئی آپ کو کہاں سے کہاں لے جائے گی، ہم اپنے ارگرد نظر دوڑائیں تو بہت سے لوگ صاف گوئی کے چکر میں لوگوں کی عزتیں اُچھال رہے ہوتے ہیں، خود کو اچھا ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں کہ میں دل میں بات نہیں رکھتا جو کہتا ہوں سامنے کہہ دیتا ہوں تو جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ منافقت سے کام نہ لو وہاں یہ بھی تو فرمایا ہے نہ کہ دوسروں کے عیبوں کی پردہ پوشی کرو۔ آج ہمارے معاشرے میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو دیکھیں تو یہ ہر گھر کی کہانی ہے، اب یہ تو میں جو تصویر آپ کے سامنے کھینچنا چاہ رہی ہوں اُس کا ایک سرا ہے، ابھی دوسرے سرے کی طرف آنا تو باقی ہے، دنیا میں بہت سے لوگ ہیں ہر انسان دوسرے انسان سے الگ ہے اپنی عادات کے اعتبار سے احساسات کے اعتبار سے کچھ لوگ بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں اور اُن کا سب سے بڑا جرم ہی اُن کی حساس طبیعت ہوتی ہے وہ ہر چھوٹی چھوٹی چیز کو محسوس کرجاتے ہیں اور یہ اُن کی بہت بڑی غلطی ہوتی ہے، ایک بات یاد رکھیے گا جو انسان بہت حساس ہوگا اُس کا اپنے قریبی رشتوں سے توقعات کا منار بھی بہت اونچا ہوگا، اُس کی امیدیں بہت زیادہ ہونگیں، جو وہ دوسروں سے لگاکے بیٹھا ہوگا اور میرا ذاتی خیال ہے کہ مسئلے وہاں پر خراب ہوتے ہیں، بہت سی لڑائیاں جھگڑے رنجشیں، دل کے فطور اس سب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ ایک بندہ کہہ نہیں پارہا ہوتا اور دوسرا سمجھ نہیں پارہا ہوتا اور جب آپ اپنے کہے گئے سوالات کے جواب بھی خود دینے لگ جاؤ تو اصل مسئلہ وہاں پر بنتا ہے مجھے لگتا ہے کہ حاصل اور لا حاصل کے درمیان ازل سے ابد تک یہی جنگ چھڑی رہے گی یہ میرا ذاتی خیال ہے ہوسکتا ہے میں غلط بھی ہوں کہ ہم جن چیزوں کو حاصل کرلیتے ہیں اُن کی بے قدری شروع کردیتے ہیں، ہماری سوچ کا معیار بدل جاتا ہے، جوکہ ہونا نہیں چاہیے، وہاں ہم الفاظ کے چناؤ میں بھی لاپرواہی کرجاتے ہیں ہم اپنا حق سمجھ کر کچھ الفاظ ایسے بول جاتے ہیں جو دوسرے انسان کی ذات کی نفی کردیتے ہیں اور معاشرے میں ان گنت مسئلوں کی وجہ دیکھ لیں کیا ہے کوئی بھی انسان شروع سے ہی تو برا نہیں ہوتا نہ اُسے کسی نہ کسی نے تو اِس برائی کی طرف راغب کیا نہ۔ تو جب ہم سننے اور سمجھنے دونوں میں لاپرواہی کرتے ہیں تو بہت سی مرضیں جنم لیتی ہیں ۔

آج آپ ریسرچ کرکے دیکھیں کے90% بیماریوں کی وجہ کیا ہے ڈپریشن، یہ ڈپریشن آیا کہاں سے اُن الفاظ کے ذریعے جو ہم دوسروں کے لیے استعمال کرجاتے ہیں اپنی صاف گوئی میں یا اُن سوالات کے ذریعے جو ہم کسی کو کھونے کے ڈر سے یا دور ہونے کے ڈر سے اکثر نہیں کرپاتے یا اکثر اس لیے نہیں کرپاتے کہ ہمیں اُن کے جوابات کا پتہ ہوتا ہے، اس لیے ہر انسان کو اہمیت دینا چاہیے، اگر آپ کی زندگی میں کہیں آگے جاکر آپ کو لگے کہ اُس انسان کی اہمیت کہیں کم پڑ رہی ہے تو مکمل چھوڑ دیں کیونکہ مکمل چھوڑنے کی تکلیف سے شاید وہ جلد نکل آتا ہے مگر ذات کی نفی کی تکلیف سے نہیں، میں سمجھتی ہو جب اندر کی حبس بہت بڑھ جائے یاکسی کے الفاظوں کے دانت بہت شدت سے کاٹیں یا ایسا لگے کہ ایسی صورت حال میں سانس لینا بھی مشکل ہورہا ہے تو کاغذ اور قلم پکڑلیں اور لکھ دیں جو بھی لکھیں مگر دل میں غبار کو مزید مت رکھیں ورنہ شاید تلوار کے زخم سے تو بچت ہوہی جاتی ہے، الفاظ کے دانت اتنے ترچھے اور نوکیلے ہوتے ہیں کہ اُن کا زہر آپ کو اپنی ہر آتی جاتی سانس میں محسوس ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حالوں پر رحم کرے۔ (آمین )
کالم نگار: ہومیوپیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے