اپنوں میں بیگانہ

کہاں میں اور کہاں یہ آبِ کوثر سے دھلی خلقت
میرا تو دم گھٹ رہا ہے اِن پارساؤں میں

انسان کی مکمل زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو انسان جتنا بھی دور گزارتا ہے، اُس میں مختلف مراحل آتے ہیں، ایک وقت میں ایک انسان یا چیز ہمارے لیے بہت اہم ہوتی ہے اگلے ہی لمحے اُس چیز کی اہمیت ہی ختم ہوجاتی ہے۔ حاصل اور لاحاصل کے درمیان اگر آپ موازنہ کریں تو ریسرچ کہتی ہے کہ چیزیں یا انسان اگر حاصل میں آجائے تو اہمیت کہیں کھو جاتی ہے، میں اسے کھوجانا تو نہیں کہوں گی کیونکہ اگر کہہ دیا جائے کہ اہمیت مکمل ختم ہوجاتی ہے تو یہ کہیں نہ کہیں زیادتی کے زمرے میں آجائے گا، ہاں اہمیت کم ضرور ہوجاتی ہے۔ ہم نے اکثر لوگوں کو کہتے سنا ہوگا، میرے ساتھ ہمیشہ ہی غلط ہوتا ہے، یا اکثر ہمیں اپنی کہانی سنائیں گے تواُس میںمظلومیت کا عنصر بھرا پڑا ہوگا۔ ہمارے ارگرد ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو واقع ہی اپنے قریبی رشتے داروں پر اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن آخر میں اُن کا پھر بھی یہ ہی کہنا ہوتا ہے کہ میں نے اپنوں کے لیے بہت کچھ کیا لیکن میں پھر بھی اکیلا ہوں۔ ایک جگہ لکھی ہوئی تحریر ذہن میں آگئی (دنیا اک ایسا ہجوم ہے جہاں ہر شخص اکیلا ہے) تواب ہم بات کرتے ہیں اُس اکیلے شخص کی اس اکیلے شخص کی کہانی کتابوں میں تحریروں میں ایک مظلوم کے طور پر ہم اکثر اوقات پڑھ چکے، فلموں ڈراموں کی صورت میں دیکھ بھی چکے وہ اکیلا شخص جو آپ ہیں جو میں ہوں کیا ہم نے ہمیشہ دوسروں کو غلط کہنے سے پہلے اپنا محاسبہ کیا کہ ہم کہاں پر کھڑے ہیں۔ ہم جن رشتوں کو غلط کہہ رہے ہیں ہم نے اُنہیں دیا کیا ہے، ایک نارمل لائف کی اگر بات کریں تو کیا ایک باپ کا فرض صرف پیسہ کمانا ہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اچھی زندگی دے رہا ہے، میں یہ نہیں کہتی کہ یہ اتنا ضروری نہیں ہے بنیاد ہی یہ ہیں لیکن کیا صرف پیسہ کمانے سے گھر کی مکمل ذمہ داری پوری ہوجائے گی۔ جو بچے آپ کی محبت آپ کی توجہ کے طلبگار ہیں اُن کے ذہنوں میں آپ کی توجہ نہ دینے سے جو ذہنی خلا رہ جائے گا وہ پورا ہوسکتا ہے؟ بیوی کا فرض صرف شوہر کی خدمت کرنے کی حد تک مرکوز ہے، کیا اس خدمت کیساتھ ذہنی ہم آہنگی ضروری نہیں، ہر بندے کی کہانی میں کوئی انسان کسی برے کردار کی طرح ضرور ہوتا ہے اور ہم کسی نہ کسی کی کہانی میں ایک اچھے کردار بھی ہوتے ہیں۔
لیکن یہاں بنیادی مسئلہ جو آتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے ذہنوں میں یہ حاوی کرلیتے ہیں کہ اس رشتے کو چلانے کے لیے جو کیا ہم نے ہی کیا۔ جب یہ چیز ہمارے ذہن میں فٹ ہوجائے گی تو ہمیں اپنا آپ مظلوم ہی لگے گا کہ وہ کہتے ہیں نا:

اپنی برائیوں کو پس پشت ڈال کر
ہر شخص کہہ رہا ہے زمانہ خراب ہے

لیکن ہم یہ نہیں سوچتے کہ اُس زمانے کو خراب کرنے میں بھی تو کہیں نہ کہیں ہم موجود ہیں کبھی غلط کو غلط نہ کہہ کر کہ بھی اگنور کرکے ہم اپنی غلطیوں کے معاملہ میں بہت اعلیٰ وکیل کا کردار ادا کرتے ہیں اور دوسرے کی غلطی پر جج بن جاتے ہیں، کبھی ہم نے سوچا کہ سب سے زیادہ بے قدری ہم اُن رشتوں کی کررہے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ایک گھر میں ایک چھت کے نیچے رہ رہے ہوتے ہیں، تو جب ہم اپنی غلطی کو دیکھےں گے ہی نہیں کہ کوئی بھی رشتہ صرف ایک چیز سے نہیں چل سکتا اُس رشتے کو چلانے کے لیے کبھی دوسرے کو جھکانے کی خواہش کے ساتھ ساتھ خود کا جھکنا بھی ضروری ہوتا ہے، اپنی سوچ سے مطابقت رکھنے والے لوگوں کو ٹھیک کہتے ہیں، اگر کسی کی سوچ ہمارے مخالف سمت میں ہوتو ہم اُس سے اجتناب شروع کردیتے ہیں کیا ہمیں جاننا نہیں چاہیے کہ اُس غلط سوچ کی وجہ کیا ہے ہم اپنے ذہن کو کسی ایک جگہ پر رکھ کر اپنے ذہن کے مطابق خود کو ٹھیک اور دوسرے کو غلط کہنے سے پہلے یہ نہیں سوچنا چاہتے کہ ایک دفعہ اُس سے پوچھ تو لیا جائے کہ میرے اتنا اچھا ہونے کے باوجود کمی کہاں پر رہ گئی کہ وہ ہم سے متنفر ہوبیٹھا۔ یا میری اچھائی کا صلہ نہیں ملا، ویسے بھی اچھائی کے صلے کی غرض رکھنا تو ہے ہی غلط لیکن پھر بھی میرا ذاتی خیال ہے کہ ہم اپنے ارگرد معاشرے کی بہت ساری بگڑی صورتِ حال کا جہاں ذکر کرتے ہیں وہاں قابل ذکر ذہنی رنجشیں بھی ہیں جن کو سلجھانے کی بجائے ہم اُن کو ذہنوں میں گرہ کی طرح باندھ لیتے ہیں، جونقش ہوجاتی ہیں اُس کے بعد ہمیں کسی کی اچھائی بھی برائی ہی لگتی ہے کیوں کہ ہم اپنے ذہن میں عکس بنالیتے ہیں اُس لیے آج کل اس مسئلے پر جتنا غور کیا جائے کم ہے، کہ آپ اپنی طرف سے کسی بھی رشتے کو چلانے کی مکمل کوشش کرکے تو دیکھو اور اگر پھر بھی کہیں پر کوئی مسئلہ آرہا ہے تو اپنی جگہ خود کو مظلوم کہنے سے پہلے ایک دفعہ محاسبہ کرنے میں کیا دقت ہے، کیا پتہ اگر99 جگہ پر ہم ٹھیک ہیں تو کہیں ایک مقام پر غلط بھی ہوں اور دوسرے کے ذہن پر وہ ایک مقام ہی نقش ہو، کیونکہ مکمل تو ایک خدا کی ذات ہی ہے ، اُس کے علاوہ تو ہر چیز میں کوئی نہ کوئی ادھورا پن تو ہے، اس لیے میرا ذاتی خیال ہے کہ ہر رشتے کی ایک الگ ڈیمانڈ ہوتی ہے کچھ رشتے صرف توجہ مانگتے ہیں، وہاں پیسے سے کام نہیں چلایا جاسکتا، اور بعض رشتوں میں توجہ تو ضروری ہوتی ہے لیکن اُس توجہ کے ساتھ ساتھ ذہنی ہم آہنگی کی بھی ضرورت ہوتی ہے، ورنہ کہنے والا کچھ کہتا ہے تو سننے والا کچھ اور ہی سمجھ بیٹھتا ہے، وہ کہتے ہیں نا:

ہم دوا لکھتے رہے وہ دغا پڑھتے رہے
ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم بنا دیا

تو یہاں وہ ایک نقطہ ہی سمجھنے کی ضرورت ہے، پھر زندگی آسان سے آسان ترین ہے۔

کالم نگار: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے