پاکستان میں موجود خوبصورت پہاڑی سلسلے

پاکستان میں موجود خوبصورت پہاڑی سلسلے

پاکستان کی آب و ہوا، محل وقوع،ساحلی علاقے،قدرتی وسائل،دریا، میدان اور پہاڑ اس کی شان میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔پاکستان کا  قدرتی ماحول یہاں بسنے والے عوام کے طرز رہن سہن اور معاشی سرگرمیوں کو الگ الگ سانچے میں ڈھال دیتا ہے ۔جہاں ایک طرف جنوب میں بڑی ساحلی پٹی ہے تو دوسری طرف شمال اور جنوب مغرب میں عظیم الاشان پہاڑی سلسلے ہیں ۔5 دریاوں کی سرزمین میدانوں،کوہستانوں  اور سطوح   مرتفع سے بنا  یہ ملک کسی جنت سے کم نہیں ۔پہاڑ کسی بھی ملک کے لئے بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔پہاڑوں سے دریا نکلتے ہیں، ان سے موسم گرما میں ہوائیں ٹکراتی ہیں اور بارش برسانے کا سبب بنتی ہیں ۔ان پر موجود جنگلات اور معدنیات ملکی ترقی میں اضافہ کرتے ہیں۔ان جنگلات میں جانوروں کی افزائش نسل ہوتی ہے ۔پہاڑوں کے درمیان وادیوں میں لوگ بستے ہیں اور پہاڑوں کی چراہگاہوں پر مویشی پالے جاتے ہیں ۔ پاکستان میں موجود تین بڑے پہاڑی سلسلوں قراقرم، ہندو کش اور ہمالیہ میں 8000 میٹر سے 6000 میٹر  تک اونچائی کی چوٹیاں موجود ہیں ۔ چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے 5 پاکستان میں ہیں جن کی اونچائی 8 ہزار میٹر سے زیادہ ہے۔ان پہاڑی سلسلوں میں دنیا کی خوبصورت ترین وادیاں موجود ہیں جن میں ہنزہ،نلتر،سکردو،گلگت،چترال ، سوات ، کاغان، ناران و دیگر شامل ہیں ۔ان پہاڑی سلسلوں میں موجود گلئشریز سیاچن بولٹارو،بیفو اور جھیلیں سیف الملوک،لالوسر، کھچورا لیک اور سدپارہ اپنے نیلے پانیوں کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہیں ۔ان علاقوں میں برفانی چیتے، مارخور،بروان بئیر،یاک،ایبکس بکثرت پائے جاتے ہیں ۔پہاڑوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے پہاڑوں کا عالمی دن ہر سال ۱۱ دسمبر کو منایا جاتا ہے،وطن عزیزپاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو اور نانگا پربت سمیت متعدد پہاڑی سلسلے پاکستان میں واقع ہیں۔ عالمی سطح پر ہر سال 5 کروڑ سیاح پہاڑی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تاہم اس کی قیمت پہاڑی علاقوں میں بڑھتی ہوئی آلودگی کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔   کے ٹو پر چڑھنے کی پہلی مہم 1902ء میں ہوئی جو ناکام  ہو گئی۔ اس کے بعد 1909ء، 1934ء، 1938ء، 1939ء اور 1953ء والی کوششیں بھی ناکام ہوئیں۔ 31 جولائی، 1954ء کی اطالوی مہم بالاخر کامیاب ہوئی۔ لیساڈلی اور کمپانونی کے ٹو پر چڑھنے میں کامیاب ہوئیں۔23 سال بعد اگست 1977 میں ایک جاپانی کوہ پیما اچیرو یوشیزاوا اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوا۔ اس کے ساتھ اشرف امان پہلا پاکستانی تھا جس نے اس کو سر کیا۔ 1978ء میں ایک امریکی ٹیم بھی اس پر چڑھنے میں کامیاب ہوئی۔نانگا پربت دنیا کی نویں اور پاکستان کی دوسری سب سے اونچی چوٹی ہے۔ اس کی اونچائی 8125 میٹر ہے۔ اسے دنیا کا قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کو سر کرنے میں سب سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ اسے ایک جرمن آسٹرین ہرمن بہل نے سب سے پہلے تین جولائی 1953ء میں سر کیا۔نانگا پربت دنیا میں دیکھنے کی سب سے خوبصورت جگہ ہے۔ اس جگہ کو فیری میڈو کا نام 1932ء کی جرمن امریکی مہم کے سربراہ ولی مرکل نے دیا۔ گرمی کے موسم میں سیاحوں کی اکثریت فیری میڈو آتی ہے یہ 3300 میٹر بلند ہے۔یہ نانگا پربت سے شمال کی جانب دریائے سندھ اور شاہراہ ریشم سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاتو، فنتوری اور تارڑ جھیل بھی  اسی راستے میں آتی ہیں۔سلسلہ کوہ ہندوکش شمالی پاکستان کے ضلع چترال اور افغانستان کا اہم پہاڑی سلسلہ ہے۔ ہندوکش کی سب سے اونچی چوٹی تریچ میر چترال پاکستان میں ہے۔ اس کی بلندی سات ہزار سات سو آٹھ میٹر ہے۔ ہندو کش قریبا سارے افغانستان میں پھیلا ہوا ہے۔ہندو کش لاطینی لفظ انڈیکوس سے بنا ہے۔ کیونکہ اس پہاڑی سلسلے کو عبور کرنے کے بعد ہندوستان شروع ہو جاتا تھا،دریائے کابل اور دریائے ہلمند ہندو کش سلسلے کے اہم دریا ہیں۔کوہ ہمالیہ اپنے ذیلی سلسلوں کے ساتھ دنیا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسہ ہے جس میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں بشمول ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو موجود ہیں۔ 8,000 میٹر سے بلند دنیا کی تمام چوٹیاں اسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہیں۔ اس سلسلے کی بلندی کو سمجھنے کے لیے یہ جان لینا کافی ہے کہ اس میں 7,200 میٹر سے بلند 100 سے زیادہ چوٹیاں ہیں جبکہ اس سے باہر دنیا کی بلد ترین چوٹی کوہ اینڈیز میں واقع اکونکاگوا ہے جس کی بلندی صرف 6,962 میٹر ہے۔ہمالیہ کا بنیادی پہاڑی سلسلہ مغرب میں دریائے سندھ کی وادی سے لیکر مشرق میں دریائے برہمپترا کی وادی تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ برصغیر کے شمال میں 2,400 کلومیٹر لمبی ایک مہراب یا کمان کی سی شکل بناتا ہے جو مغربی کشمیر کے حصے میں 400 کلومیٹر اور مشرقی اروناچل پردیش کے خطے میں 150 کلومیٹر چوڑی ہے۔سلسلہ کوہ قراقرم پاکستان، چین اور بھارت کے سرحدی علاقوں میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے چند بڑے پہاڑی سلسلوں میں شامل ہے۔ قراقرم ترک زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب کالی بھربھری مٹی ہے۔ کے ٹو سلسلہ قراقرم کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ جو بلندی میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔اس کی بلندی 8611 میٹر ہے اسے گوڈسن آسٹن بھی کہاجاتا ہے۔ قراقرم میں 60 سے زیادہ چوٹیوں کی بلندی 7000 میٹر سے زائد ہے۔ اس سلسلہ کوہ کی لمبائی 500 کلومیٹر ہے۔ دریائے سندھ اس سلسلے کا اہم ترین دریا ہے۔پاکستان کے انتہائی شمال میں گلگت کے قریب، دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلوں، ہمالیہ، ہندو کش اور قراقرم کا سنگم بھی موجود ہے، برف سے ڈھکے  ان پہاڑی سلسلوں کو سر کرنے کیلئے ہر سال ہزاروں کوہ پیما پاکستان کا رخ کر تے ہیں جس سے ملک کو قیمتی زرمبادلہ ملتا ہے۔ مکران کا پہاڑی سلسلہ جو کہ بلوچستان کے جنوبی نیم صحرائی ساحل سے ہوتا ہوا ایران اور پھر پاکستان کی ساحلی پٹی بحیرہ عرب تک جاتا ہے۔کئی پہاڑی سلسلوں میں تنگ ساحل سمندر بہت تیزی سے گزر رہا ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ 1,000کلومیٹر لمبا ہے جسکا 750کلو میٹر پاکستان میں ہے۔ کیرتھر سلسلہ، یہ بلوچستان اور سند ھ کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی سلسلہ دریائے مولا کے جنوب سے شروع ہوتا ہے جو کہ بلوچستان کے مشرق وسط سے ہوتا ہوا کیپ ماؤن اور پھرکراچی کے بحیرہ عرب کے ساحل پر ختم ہوتا ہے۔اسلام آباد میں آ نے والے سیا حو ں کو کوہ ما رگلہ کی کشش اپنی جانب ضرور کھینچتی ہے، کوہ ما رگلہ کی کشش سے متا ثر سیا حو ں کا ماننا ہے کہ قدرت کی یہ حسین جلوہ گری تما م موسمو ں میں اپنا جا دو جگاتی ہے، وفا قی دارالحکومت کی دلکشی میں بلاشبہ یہاں قدرت کی جلوہ گری بیان کرتے کوہ مارگلہ کی خا ص اہمیت ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق سیاحت، آلودگی، جنگلات کی کٹائی اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے پہاڑوں کا قدرتی حسن تباہ ہو رہا ہے۔راکاپوشی، نگر میں واقع ہے، جو نگر کی شان تصورکی جاتی ہے۔ نگر اور ہنزہ کے درمیان بہنے والا دریائے ہنزہ اس کی خوبصورتی اور شان کو چار چاند لگاتا ہوا نظر آتا ہے۔ہنزہ میں جب بلشت قلعہ پہنچتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے آپ پہاڑوں کے مسکن میں پہنچ گئے ہوں، چاروں طرف بلند و بالا برف پوش آسمانوں سے باتیں کرتا پہاڑی سلسلہ ہے، جوپوری دنیا میں اس خطے کو دوسرے علاقوں سے منفرد کرتا ہے۔ہنزہ سے آپ راکاپوشی، گولڈن پیک، دیراں پیک، سران پیک، لیڈی فنگر جیسی چوٹی کا نظارہ کرسکتے ہیں، جن پرہرسو برف نظرآتی ہے اور بادلوں کے غول در غول اس سے باتیں کرتے، کچھ دیر اس سے گلے ملنے کے بعد آگے بڑھتے جاتے ہیں۔الغرض پاکستان کے یہ پہاڑی سلسلے پاکستان کی پہچان اور ساری دنیا میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ یہ کوہ پیماؤں کیلیے جنت ہیں، اگر ان کیلئے آسانی فراہم کی جائے تو یقیناً زیادہ سے زیادہ سیاح اور کوہ پیما پاکستان کا رخ کریں گے، جن سے مقامی لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان سیاحت کے فروغ پر توجہ دے رہے ہیں امید ہے وہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیں گے۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے