ٹیلی کام کمپنیوں نے 5 منٹ سے زائد کی کالز پر ڈیوٹی مسترد کردی

ٹیلی کام کمپنیوں نے 5 منٹ سے زائد کی کالز پر ڈیوٹی مسترد کردی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) 4 کمپنیوں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ کالز پر ہر 5 منٹ بعد مجوزہ 0.75 پیسے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) پر تکنیکی لحاظ سے عملدرآمد مشکل ہے اور اس سے ٹیلی کام سیکٹر کے سروس ماڈل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی سی ایل اور چاروں موبائل کمپنیوں جاز، ٹیلی نار، یوفون اور زونگ 4 جی نے وزیر خزانہ شوکت ترین اور وزیر انفارمیشنٹیکنالوجی سید امین الحق کے نام ایک خط میں ‘فنانس بل 2021’ میں مجوزہ 5 منٹ کی کال پر 0.75 پیسے کی ایف ای ڈی پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا تھا کہ محصولات سے متعلق نئے اقدامات پاکستان کی ٹیلی کام انڈسٹری میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل کردیں گے، جو براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنے والا سب سے بڑا شعبہ ہے۔ خط میں کہا گیا کہ ‘اگر صنعت پر زبردستی لیوی لگائی گئی تو اس سے ٹیلی کام سیکٹر کے سروس ماڈل اسٹرکچر کو نقصان اور بڑی رکاوٹ پیدا ہوگی’۔خط میں مزید کہا گیا کہ 90 فیصد سے زائد وائس منٹس بنڈلز کے ذریعے استعمال کیے جاتے ہیں اور اگر یہ سہولت واپس لے لی جائے اور صارفین سے نارمل قیمت وصول کی جائے تو ان کی کال کے نرخ کئی گنا زیادہ ہوجائیں گے۔خط میں وزیر خزانہ سے ان کی بجٹ تقریر میں دیے گئے اس بیان کے حوالے سے وضاحت کرنے کی بات کی گئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کہ ٹیلی کام سیکٹر پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا لیکن 25 جون کو سینیٹ میں تقریر کرتے ہوئے انہوں نے 5 منٹ سے زیادہ کی کال پر 0.75 پیسے کی لیوی کا اعلان کیا۔ ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام صارفین کی وائس کالز پر لاگو ٹیکس دنیا میں سب سے زیادہ ہے اور نیا ایف ای ڈی حکومت کے ڈیجیٹل پاکستان انیشی ایٹو کو نقصان پہنچائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر اس تجویز کو زبردستی لاگو کیا گیا تو اس جارحانہ اقدام کے تکنیکی اور تجارتی نتائج کے علاوہ قانونی اثرات ہوں گے اور نئے اقدام کے تحت بِلنگ تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔خط میں کہا گیا کہ نئی ایف ای ڈی، سبسکرائبرز کے استعمال کے رجحانات میں بنیادی تبدیلیوں اور صنعت کی آمدنی میں سکڑاؤ اور بالآخر یہ محصولات کے خاتمے کا سبب بنے گی۔کمپنیوں کا مزید کہنا تھا کہ نئی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی آڈٹنگ بہت پیچیدہ ہے کیوں کہ ہر کال ریکارڈ کا تجزیہ اور آڈٹ کرنا پڑے گا۔خط میں مزید کہا گیا کہ ‘اس کا مطلب یہ ہے کہ ایف بی آر کو نئی ایف ای ڈی کے آڈٹ کے لیے اربوں کال منٹس اور ریکارڈ کا جائزہ لینا پڑے گا’۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے