مردوں کے بال کاٹنے والی خاتون کون ہیں اور انہوں نے یہ کام کیوں شروع کیا؟ جانیں ان لڑکی کے بارے میں دلچسپ باتیں

مردوں کے بال کاٹنے والی خاتون کون ہیں اور انہوں نے یہ کام کیوں شروع کیا؟ جانیں ان لڑکی کے بارے میں دلچسپ باتیں

آج کے دور میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ رہتے ہوئے ہر اس کام میں حصہ لینے لگی ہیں جن کے بارے میں اس سے قبل تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خواتین مردوں کی طرح بائیک چلا لیتی ہیں یہاں تک کہ بائیک استنٹ میں بھی مہارت حاصل کرچکی ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کے اسٹالز ، ٹیکسی ڈرائیونگ سے لے کر دیگر کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہیں اور نہ صرف حصہ لے رہی بلکہ ان کاموں میں بہترین تجربہ بھی حاصل کر رہی ہیں۔آج ہم ایسی ہی ایک پاکستانیخاتون کے بارے میں بتانے جا رہے ہیں جو ایک بیوٹیشن اور ہئیر ڈریسر ہیں اور اپنے سلون میں خواتین کے ساتھ مردوں کے بھی بال کاٹتی ہیں۔ انہوں نے یورپ اور دُبئی سے اس کام کی تربیت حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان آکر اپنا کاروبار شروع کیا۔ سوشل پاکستان کے مطابق مذکورہ خاتون کا نام ردا ہے جن کا تعلق لاہور سے ہے۔ انٹرویو میں بات کرتے ہوئے ردا نے کہا کہ بال کاٹنے کا خیال مجھے بہت آگیا تھا مگر شروعات اب کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کام سیکھے ہوئے ڈیڑھ سے دو سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔فیشن ڈیزائنر ردا نے کہا مجھ سے ایک مرتبہ اپنے کزن کی مونچھ بناتے وقت غلطی ہوگئی میں نے اس کی مونچھ ایک طف سے زیادہ کاٹ دی تھی جس کے بعد اس نے مجھ سے پھر کام نہیں کروایا۔ردا کا کہنا تھا مجھے ایونٹ مینجمنٹ اور میک اپ کا بہت شوق ہے اور میں نے سلون اس لیے بنایا کیونکہ مجھے میک اپ کا بہت شوق تھا۔انہوں نے بتایا کہ مجھے ایکٹنگ میں آنے کا بھی بہت شوق تھا مگر وہ خواب میرا پورا نہیں ہوسکا۔ ہئیر ڈریسر ردا نے بتایا کہ مجھے اس کاروبار کے لیے میرے والدین کی بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے۔ردا نے کہا کہ اگر مجھے ماڈلنگ میں جانے کا موقع فراہم کیا جائے تو وہ ضرور ماڈلنگ کریں گی۔فیشن ڈیزائنر ردا کا کہنا تھا کہ میں قومی سطح پر کام کرنا پسند کرتی ہوں، اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے سلون میں جونئیر اسٹاف کو سب کام خود سکھاتی ہوں۔ ردا نے بتایا کہ ان کے ہئیر سلون کی لاہور کے علاوہ کراچی میں بھی برانچز موجود ہیں۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے