جب جہاز کو عمارت سے ٹکراتے دیکھا تو شوہر کو بار بار کال کی، لیکن کوئی جواب نہ ملا کیا معلوم تھا کہ وہ ۔۔ جانیے

جب جہاز کو عمارت سے ٹکراتے دیکھا تو شوہر کو بار بار کال کی، لیکن کوئی جواب نہ ملا کیا معلوم تھا کہ وہ ۔۔ جانیے

نائن الیون کا واقعہ آج بھی ہم سب کو یاد ہے جس میں کئی خاندان ہلاک ہوگئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں افراد نائن الیون جیسے بد قسمت واقعے کی زد میں آگئے تھے جنہیں آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔آج ہم ایک ایسے جوڑے کی کہانی بتانے جا رہے ہیں جن کے نام جوپیٹر اور نینسی ہیں جنہوں نے نائن الیون کا افسوسناک واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور نینسی کے شوہر اس واقعے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔بعد ازاں جوپیٹر کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعدنینسی کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی اس حوالے سے ہم جانیں گے۔​​​​​​​جوپیٹر یامبم نے 11 ستمبر کے روز جڑواں عمارت ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ایک ریسٹورانٹ میں صبح کی شفٹ لے لی تھی کیونکہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے۔ ان کے بیٹے کا نام سانتی تھا جو کافی چھوٹا تھا۔ امریکی شہر نیو یارک میں ایک بلند وبالا عمارت نارتھ ٹاور کی چھت پر واقع ونڈوز آن دی ورلڈ ریستوران میں رات کی شفٹ کے باعث اس کے پاس گھر والوں کے ساتھ رہنے کے لیے بہت کم وقت بچتا تھا۔وہ سانتی کے ساتھ فٹ بال کھیلنا چاہتے تھے، اسے بائیک چلانے کے گر سکھانا چاہتے تھے۔جوپیٹربھارتی شمال مشرقی ریاست منی پور سے سنہ 1981 کو امریکہ کے شہر ورمونٹ میں ایک بینائی سے محروم بچوں کے سمر کیمپ میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ اس کے بعد وہ امریکہ میں قیام کے دوران اپنی محنت کے بل بوتے پر ترقی کرتے ہوئے ایک بہت اہم ریستوران کے مینیجر کے عہدے پر فائز ہوگئے تھے۔جوپیٹر اس عمارت میں پانچ سال تک ملازمت کرتے رہےتھے۔11 ستمبر کو جوپیٹر کے ذمے ایک ٹیکنالوجی کانفرنس کا اہتمام کرنا تھا جس کی میزبانی ان کا اپنا ریستوران کر رہا تھا۔سانتی کا کنڈرگارٹن میں دوسرا ہفتہ تھا اور نینسی اُن کی سکول بس کے پیچھے جا رہی تھیں کیونکہ یہ بس ہر روز دیر سے چلتی تھی اور وہ سکول کے پرنسپل کو یہ بتانا چاہتی تھیں کہ یہ بس کس وقت سکول پہنچتی تھی۔ پھر جب وہ اپنے دفتر پہنچیں جو 64 کلومیٹر دور اورنج برگ میں ایک ایسا رہائشی گھر تھا جہاں ذہنی معذوری کے شکار اور منشیات جیسے مسائل کا سامنا کرنے والے افراد رہتے تھے۔ جب وہ اپنے کام پر پہنچیں تو کسی سے انہیں معلوم ہوا کہ ایک طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گیا ہے۔نینسی نے مجھے نیو یارک میں واقع اپنے گھر سے بتایا کہ انھوں نے طیاروں کو عمارت سے ٹکراتے نہیں دیکھا۔ مقامی وقت کے مطابق 8:46 منٹ پر امریکن ایئرلائن فلائیٹ 11 نے نارتھ ٹاور کی 93 سے 99 ویں منزل کو ہدف بنایا، جس سے اوپر کی منازل میں سب لوگ پھنس کر رہ گئے۔جب لوگ وہاں پھنس گئے تو ایسے میں ونڈوز آن دی ورلڈ ریستوران کو سیاہ دھویں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس ریستوران کے معاون مینیجر نے ہدایات کے لیے حکام کو سخت لہجے میں فون کیے اور ان سے کہا کہ ہمارے مہمانوں اور ملازمین کے لیے جلد سے جلد کچھ کریں۔ٹیلی کانفرنس میں ایک ملازم نے دوسرے کو بتایا کہ عمارت میں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس سے تمام کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کر گر گئیں اور چھت نیچے گر گئی، ہر کوئی نیچے گر گیا مگر سب ٹھیک ہیں اور اب وہاں سے سب کو نکالا جائے گا۔مگر وہاں سے کوئی ایک شخص بھی باہر نہیں نکل سکا۔نینسی کا کہنا ہے کہ اس نے ان جڑواں ٹاورز کو تباہ ہوتے دیکھا اور اس تباہی سے وہ مکمل صدمے اور ناقابل یقین کیفیت میں چلی گئیں۔ ان کے مطابق وہ اپنے شوہر کے فون پر بار بار کال کر رہی تھیں مگر انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔امدادی کارکنان نے جلد ہی جوپیٹر کی لاش ملبے کے اوپر سے نکال دی۔ ان کے خاندان والوں نے ان کی کنگھی سے ان کے ڈی این اے کے نمونے دیے اور ہفتے کے اختتام تک ا کی لاش کی شناخت ہوگئی تھی۔ نینسی کے مطابق ہم بہت خوش نصیب تھے۔ ہم نے جوپیٹر کی آخری رسومات ادا کیں۔جوپیٹر کی 42 برس کی عمر میں موت واقع ہوئی اور اس وقت نینسی 40 برس کی تھیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو گذشتہ 20 سال سے جانتے تھے۔جوپیٹر کی نینسی سے شادی سنہ 1991 میں انڈیا کی ریاست منی پور میں ہوئی۔جب ان دونوں کی 1981 میں ملاقات ہوئی تو اس وقت جوپیٹر معاشیات (اکنامکس) جبکہ نینسی میوزک تھیراپی کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں۔ نینسی کو ملنے کے لیے جوپیٹر ایک ہوٹل میں آتے تھے، جہاں نینسی کام بھی کرتی تھیں۔ ان کی محبت کا آغاز ’کیرٹ کیک‘ کے سلائس (ٹکڑے) سے ہوا جسے وہ ایک دوسرے سے شیئر بھی کرتے تھے۔ جب ان دونوں کی سنہ 1991 میں شادی ہو گئی تو انھوں نے ایک ’کیرٹ کیک‘ آرڈر گیا۔جوپیٹر کے بڑے بھائی یامبم لابا نے بتایا کہ جوپیٹر کی پرورش انڈیا کی شمال مشرقی ریاست منی پور میں ہوئی۔ ان کے والد ایک ڈاکٹر جبکہ ماں بینک میں ملازمت کرتی تھیں۔ جوپیٹر پانچ بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا۔نینسی نے جوپیٹر کو ایک بہترین دوست پایا۔ ایک ایسا مرد جو خواتین کے خوابوں میں ہوتا ہے۔ جوپیٹر ایک بہترین کھلاڑی تھے اور اس نے انڈیا میں اپنے سکول میں لانگ جمپنگ میں ریکارڈ بھی بنا رکھا تھا۔ اسے میوزک سے محبت تھی۔جوپیٹر کو ونڈوز آن دی ورلڈ پر اپنی ملازمت پر فخر تھا۔ جب وہ گھر آتے تھے تو وہ ڈنر پر جن سیلبریٹیز کے ساتھ ملاقات ہوئی ہوتی تھی اس کے بارے میں اپنی انتہائی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔ ان میں سابق صدر بل کلنٹن، براڈ کاسٹر باربرا والٹرز اور سابق امریکی فگر سکیٹر کرسٹی یاماگوچی شامل ہیں۔مگر منگل کی خوبصورت شام کو یہ سب ختم ہو گیا۔ اور اس کے بعد ایک دکھ بھری داستان کا آغاز ہوا۔ نینسی کے مطابق پہلے برس میں سو نہیں سکی۔ میں ہر رات سونے کے لیے کراہ رہی ہوتی تھیں۔نینسی کے مطابق میں حیران ہوں کہ یہ سب کیسے ہوا۔ لوگ کیسے ہم سے اتنی زیادہ نفرت کرسکتے ہیں؟ میں نے پڑھنا شروع کیا، میں نے سیکھنا شروع کیا۔ میں نے دل سے ان دہشتگردوں کو معاف کر دیا۔ میں نے اپنے آپ کو یہ باور کرایا کہ میرے سامنے نفرت کے ساتھ زندہ رہنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ مجھے اب نئے شریک حیات کی تلاش کی ضرورت ہے۔تقریباً ڈیڑھ برس بعد نینسی کا ایک سول انجنئیر جیرمی فیلڈمین کے ساتھ تعلق قائم ہو گیا۔ سنہ 2006 میں انھوں نے اس سے شادی کر لی۔ نینسی کا کہنا ہے کہ آخر میں محبت ہی آپ کو بچا سکتی ہے۔نینسی کا کہنا ہے کہ کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب انھوں نے جوپیٹر کے بارے میں نہیں سوچا ہو۔ ان کے مطابق گھر میں ان کی یاد میں ایک چھوٹا سا مزار بھی بنایا ہوا ہے۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے