افغانستان کےحالات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا انتہائی غیر منصفانہ ہے ،وزیراعظم عمران خان

افغانستان کےحالات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا انتہائی غیر منصفانہ ہے ،وزیراعظم عمران خان

تاشقند(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ افغانستان کےحالات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا انتہائی غیر منصفانہ ہے ،پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں 70ہزار جانوں کی قربانی دی،اگرہم افغانستان میں امن کے خواہاں نہ ہوتے تو کابل کیوں جاتے ؟تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی افغان صدراشرف غنی سے ملاقات ہوئی ہے۔ملاقات میں خطے کی صورتحال اوردرپیش چیلنجز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان پاکستانی اور اشرف غنی افغان وفد کی قیادت کررہے ہیں۔تاشقند میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ افغانستان کے حالات کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا انتہائی غیر منصفانہ ہے پاکستان نے ستر ہزار جانوں کی قربانی دی ہے۔عمران خان نے کہا اگر پاکستان افغانستان میں امن خواہاں نہ ہوتا تو میں کابل کیوں جاتا۔افغان نائب صدر کی پاکستان پر الزام تراشی کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر صرف پاکستان ہی لایا۔امریکا افغانستان میں فوجی حل کی کوشش کرتا رہا جو ممکن نہیں تھا۔ جب امریکہ نے انخلا کی تاریخ دے دی تو پھر طالبان ہماری بات کیسے سنتے؟ طالبان کو فتح نظر آرہی ہے اب وہ پاکستان کی کیوں سنیں گے۔افغان شورش سے مزید مہاجرین کا پاکستان آنے کا خدشہ ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کیلیے ضروری ہے۔ افغانستان میں امن سب ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے۔ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان پل ہے۔پاکستان نے افغان نائب صدر کے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ایسے بیانات پاکستان کی افغان امن کیلئے مخلصانہ کوششوں پرمنفی اثرڈالتے ہیں۔دفترخارجہ کے مطابق طالبان حملے کے بعد بھاگ کر پاکستان آنے والے چالیس افغان اہلکاروں کو افغانستان کے حوالے کردیا۔خیال رہے کہ افغان نائب صدراللہ صالح نے گزشتہ روز الزام لگایا تھا کہ پاکستان نے کابل انتظامیہ کو سپن بولدک میں طالبان کے خلاف کارروائی سے روک دیا ہے۔پاکستان کے دفترخارجہ نے ان الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ نےاس حوالے سے افغان فضائیہ کے ساتھ کسی قسم کی پیغام رسانی نہیں کی۔افغان حکومت نےسپین بولدک میں طالبان کیخلاف فضائی کارروائی سےآگاہ کیا تھا۔ پاکستان نے مثبت جواب دیتے ہوئے افغان سرزمین پر کسی بھی کارروائی کو اس کا حق قرار دیا تھا۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close