بلدیاتی انتخابات۔۔۔!!! انتظار کی گھڑیاں ختم! حکومت نے بڑا اعلان کردیا

بلدیاتی انتخابات۔۔۔!!! انتظار کی گھڑیاں ختم! حکومت نے بڑا اعلان کردیا

پشاور(ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے افغانستان کی بدلتی ہوئی صورت حال اور کورونا وائرس کی چوتھی لہر کے باعث رواں برس منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے پر غور شروع کردیاہے جس کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی گئی ہے تاہماس بارے میں حتمی فیصلہ وزیراعظم عمران خان کریں گے۔خیبرپختونخوا میں آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات 2015ءمیں منعقد ہوئے تھے جس میں ضلع ،تحصیل اور نیبرہڈ وویلیج کونسلوں پرمشتمل سہ درجاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کرایا گیا تھا تاہم اگست 2019 میں مذکورہ سیٹ اپ کے خاتمے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں ہوپایا، صوبائی حکومت نے بلدیاتی نظام کو سہ درجاتی سے تبدیل کرتے ہوئے دو درجاتی کرنے سے متعلق قانون بھی اسمبلی سے منظور کرارکھا ہے جس کے تحت اضلاع کی سطح کا سیٹ اپ ختم کردیا گیا ہے اور اب تحصیلوں اور ویلیج ونیبرہڈ کونسلوں پر مشتمل دو درجاتی نظام کے تحت بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں۔صوبائی کابینہ نے پہلے فیصلہ کیا تھا کہ بلدیاتی انتخابات رواں سال ستمبر اور اکتوبر میں دو سے تین مراحل میں ہوں گے، تاہم بعدازاں ایک ہی مرحلہ میں کرانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ اب افغانستان کی مسلسل بدلتی ہوئی غیریقینی صورت حال اور ملک بھر میں جاری کورونا کی چوتھی لہر کے باعث صوبائی حکومت کو بیوروکریسی اور انتظامیہ کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ایک سال کے لیے ملتوی کیاجائے کیونکہ موجودہ حالات میں ہر گلی ،محلہ کی سطح پر انتخابی مہم اور پولنگ کا انعقاد خطرات سے خالی نہیں ہوگا، جس میں امن وامان کی صورت حال کے علاوہ کورونا کا مرض بھی پھیلنے کا امکان موجود رہے گا۔ مذکورہ تجویز سے صوبائی حکومت نے بھی اتفاق کیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی خواہش ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد اسی سال ہونا چاہیے جس کے باعث صوبائی حکومت کی جانب سے جلد ہی وزیراعظم کو اس بارے میں بریفنگ دی جائے گی جس میں بلدیاتی انتخابات کو ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کے حوالے سے وجوہات بتائی جائیں گی اور اس کی روشنی ہی میں وزیراعظم ہی حتمی فیصلہ کریں گے ۔سرکاری ذرائع نے رابطہ کرنے پرنجی ٹی وی چینل کو اس بات کی تصدیق کی کہ بلدیاتی انتخابات ایک سال کے لیے ملتوی کرنے کی تجویز زیر غور تو ضرور ہے تاہم حتمی طور پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا اور یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان ہی کریں گے ۔واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں دو مرتبہ 2001 اور2005 میں ضلعی حکومتوں پرمشتمل بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہواتھا تاہم پیپلز پارٹی و اے این پی کی مخلوط حکومت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کرپائی تھی۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close