ایسے شخص سے شادی کروں گی جومجھ سے زیادہ کماتا ہو،اداکارہ بالآخر دل کی بات زبان پرلے آئیں

ایسے شخص سے شادی کروں گی جومجھ سے زیادہ کماتا ہو،اداکارہ بالآخر دل کی بات زبان پرلے آئیں

اسلام آباد(ویب ڈیسک)اداکارہ مہوش حیات نے مستقبل میں سیاست میں انٹری دینے کا عندیہ دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ وہ مستقبل میں ملک کی وزیر اعظم بنیں گی۔نجی ٹی وی چینل پروگرام میںبات کرتے ہوئے مہوش حیات نے نہ صرف اپنے مستقبل کے منصوبوں پر کھل کر بات کی بلکہ انہوں نے خواتین کے حقوق، ’می ٹو مہم‘، سماجی مسائل اور شوبز انڈسٹری پر بھی کھل کر بات کی۔اداکارہ نے طویل پروگرام میں اپنی محبت اور شادی سے متعلق ارادوں پر بھی کھل کر گفتگو کی اور بتایا کہ انہوں نے آج تک محبت اور شادی کو اہمیت ہی نہیں دی۔اداکارہ نے بتایا کہ چوں کہ ان کی والدہ اداکارہ رہی ہیں اور بہن و بھائی بھی موسیقی اور اسی انڈسٹری سے ہی وابستہ ہیں تو انہیں اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔انہوں نے ڈراموں میں کام کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ڈراموں میں یکسانیت ہوگئی ہے، جس وجہ سے انہوں نے چھوٹی اسکرین پر کام کرنا بند کیا، تاہم اب وہ کچھ اسکرپٹس پڑھ رہی ہیں، جنہیں پڑھنے کے بعد وہ ممکنہ طور پر ڈراموں میں واپسی کریں گی۔ خود کو ’تمغہ امتیاز‘ ملنے کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ انہیں شاید اس لیے زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا، کیوں کہ انہیں انتہائی کم عمری میں اعلیٰ ترین ایوارڈ ملا۔مہوش حیات کے مطابق اگر انہیں سفارش کی بنیاد پر تمغہ امتیاز ملا ہے تو پھر شاید ہر کسی کو مذکورہ ایوارڈ سفارش پر ملتا آیا ہوگا۔اداکارہ نے بتایا کہ ایوارڈ ملنے کے بعد ان کی اداکاری پر کی جانے والی تنقید پر انہیں افسوس نہیں ہوا، تاہم جب ان کی کردار کشی کی گئی تو انہیں تکلیف پہنچی۔خواتین کے حقوق، عورت مارچ اور می ٹو مہم پر بات کرتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر خواتین کے حقوق کی رہنما رہی ہیں اور وہ ایسی مہموں کو سپورٹ کرتی ہیں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ مذکورہ مہموں کا مقصد برابری ہے نہ کہ خواتین یہ چاہتی ہیں کہ انہیں مردوں سے برتر سمجھا جائے۔خواتین کے لباس سے متعلق وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے سوال پر مہوش حیات نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ خواتین کے نیم عریاں لباس سے مرد حضرات کے جذبات ابھرتے ہیں بلکہ سارا معاملہ ذہنیت کا ہے۔انہوں نے اپنی فلم ’ایکٹر ان لا‘ کی مثال دی اور بتایا کہ انہوں نے مذکورہ فلم میں ایک پارسی نوجوان صحافی کا کردار ادا کیا تھا، جسے اس کے لباس کی وجہ سے تنگ کیا جاتا اور چھیڑا جاتا تھا، جس پر اس نے جب عدالت میں مقدمہ کیا تو وکیل نے ان سے پوچھا تھا کہ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ شاید آپ میں ہی مسئلہ ہو؟ آپ کے لباس میں ہی مسئلہ ہو؟اداکارہ نے مزید وضاحت کی کہ وہ جب مغربی ممالک میں جاتی ہیں تو انہیں ان کے لباس کی وجہ سے کوئی نہیں گھورتا مگر جب وہ اپنے ملک میں ہوتی ہیں تو ہرکوئی انہیں گھورتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ لباس نہیں بلکہ ذہنیت کا مسئلہ ہے۔دو حصوں پر مبنی پروگرام میں مہوش حیات نے محبت اور شادی کے معاملے پر بھی کھل کر بات کی اور بتایا کہ انہیں شروع سے ہی کسی سے محبت نہیں ہوئی، کیوں کہ انہوں نے کیریئر بنانے کے لیے اس پر دھیان ہی نہیں دیا اور انہوں نے محبت کو غیر اہم سجھا۔اداکارہ کے مطابق کم عمری میں محبت کرنے پر کیریئر متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے انہوں نے ایسے معاملے پر توجہ نہیں دی۔پروگرام میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں متعدد بار بولی وڈ فلموں میں کام کرنے کی پیش کش بھی ہوئی مگر کبھی انہیں کہانی پسند نہیں آئی تو کبھی انہیں اپنا کردار مناسب نہیں لگا، جس وجہ سے انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ انہیں پاکستانی انڈسٹری میں اتنی اہمیت ملتی ہے کہ انہیں دوسری انڈسٹری میں کام کرنے کی خواہش ہی نہیں۔اداکارہ نے شادی کے حوالے سے بتایا کہ ابھی انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملا، جن سے وہ شادی کریں اور فی الحال ان کا ارادہ بھی نہیں ہے، کیوں کہ ان کے مطابق شادی اور کیریئر ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔مہوش حیات کا کہنا تھا کہ مستقبل میں اگر انہیں کوئی اچھا شخص ملا تو وہ شادی کریں گی اور اس کے لیے وہ کیریئر سے بریک بھی لیں گی۔اداکارہ نے بتایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے شادی کریں گی جو ان سے زیادہ کماتے ہوں اور خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ دل کے اچھے ہوں، ان کے آگے رنگت اور قد کی کوئی اہمیت نہیں۔ اداکارہ نے ایک سوال کے جواب میں انکشاف کیا کہ وہ بچپن سے ہی ہولی وڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو پر فدا ہیں اور تاحال ان پر فدا ہیں۔پروگرام میں انہوں نے ٓمسکراتے ہوئے لینارڈو ڈی کیپریو کو پیش کش کی کہ وہ اگر ان کے پاس بارات لے آنا چاہتے ہیں تو لے آئیں، وہ ان سے شادی کرنے کے لیے تیار ہیں۔مہوش حیات نے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ وہ مستقبل میں سیاست میں آنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ وہ اپنی نئی پارٹی بنائیں گی یا کسی جماعت کا حصہ ہوں گی۔اسی حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ وہ مستقبل میں وزیر اعظم بننےکی خواہش بھی رکھتی ہیں اور ساتھ ہی کہا کہ جب ایک کرکٹر وزیر اعظم بن سکتا ہے تو اداکارہ کیوں نہیں بن سکتیں؟انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی سیاست اور ان کی جماعت کی تعریف بھی کی۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close