نوازشریف جلدی وطن واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے،شیخ رشید

نوازشریف جلدی وطن واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے،شیخ رشید

 اسلام آ باد (ویب ڈیسک ) وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نوازشریف جلدی وطن واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے،اگر قانون اورحالات نے مجبور کردیا تو وہ اور کوئی راستہ چن لیں گے، نوازشریف کا پاسپورٹ 16 فروری کو ختم ہوچکا ہے۔ اگر انھیں دوبارہ پاکستان آنا ہے تو برطانیہ میں پاکستانی سفارت خانے کو درخواست دینا ہوگی، اس کے بعد انھیں صرف ائیرپورٹسے ائیرپورٹ تک آنے کے لیے خصوصی دستاویز جاری کی جاسکتی ہے۔ جمعہ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرئے وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ نوازشریف صرف 4 ہفتے کے علاج کے لیے برطانیہ گئے تھے اور اب انھیں دوسرا سال ہونے والا ہے۔ نوازشریف یہ ثابت نہیں کرسکے کہ وہ بیمار ہیں۔ شیخ رشید نے مزید کہا کہ نوازشریف کی سیاست ضد پر مبنی ہے۔ شہبازشریف اور مریم نواز کا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔ قانون کے مطابق یہ تینوں افراد فارغ ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ نوازشریف جلدی وطن واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ اگر قانون اور حالات نے مجبور کردیا تو وہ اور کوئی راستہ چن لیں گے۔ شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ نوازشریف برطانیہ میں سیاسی پناہ نہیں لیں گے کیوں کہ وہ کاروباری سیاست دان ہیں۔ وزیرداخلہ نے امکان ظاہر کیا کہ نوازشریف عدالت میں جاکر کوشش کریں گے کہ اپیل کے طریقہ کار کو طویل کریں۔ عدالت کا جو فیصلہ آئے گا ، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ ابھی کی صورتحال میں ان کے پاس پاکستان واپس آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف کے وطن واپس آنے کی صورت میں وہ جیل جائیں گے اور عدالت نے بھی ان کو مفرور قرار دیا ہے۔ نوازشریف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ اپوزیشن اتحاد سے متعلق انھوں نے کہا کہ مخالفین اگر بیوقوف نہیں ہوتے تو سیاست مختلف ہوتی۔ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کو نالائق اپوزیشن ملی ہے۔ حکومت کے تین سال پورے ہوچکے ہیں۔ پاکستان بین الاقوامی سیاست کے دائرہ کار میں آنے والا ہے اور بہت بڑی سیاست ہونی جارہی ہے۔ پاکستان کی سیاست افغانستان کے امن سے وابستہ ہے۔ موجودہ حالات میں مقامی سیاست کی گنجائش ختم ہوگئی ہے۔ آنے والے چھ سات مہینے بین الاقوامی سیاست کے ہونگے۔ محرم کے جلوس کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ صوبوں سے بات کی ہے،ضرورت پڑی تو چاروں صوبوں میں جائیں گے۔ اضافی فورسز بھی تعینات کی جائے گی۔ انھوں نے واضح کردیا کہ جلوسوں میں ویکسینیشن کا اہتمام نہیں ہوسکتا۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close