بھونگ مندر واقعہ،سپریم کورٹ کاملزمان کی1ہفتےمیں شناخت کا حکم

بھونگ مندر واقعہ،سپریم کورٹ کاملزمان کی1ہفتےمیں شناخت کا حکم

جمعہ کو سپریم کورٹ میں رحیم یار خان مندر حملہ از خود نوٹس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آگاہ کیا گیا ہے کہ کچے میں موجود ڈاکو لوگوں کو دھمکیاں دینے کے علاوہ املاک کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔عدالت نے آئندہ سماعت پرکمشنر بہاولپور اور ڈی سی رحیم یارخان کو طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ استغاثہ ٹرائل کورٹ میں گواہان کی موجودگی یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے کچے کا علاقہ ڈاکوؤں سے کلیئر کرانے کا حکم دیدیا اور ریمارکس دئیے کہ ڈاکوؤں سے کلیئر کروا کرکچے میں امن بحال کیا جائے۔پنجاب حکومت اور آئی جی کچے میں سکیورٹی یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان بنے اتنا عرصہ ہوگیا ہے اور ہم ڈاکوؤں سے جان نہیں چھڑوا سکے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نےبتایا کہ کچے کا علاقہ سندھ کیساتھ بھی لگتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہر طرف سے مل کر کارروائی کریں تو کیسے نہیں کام ہوتا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رحیم یار خان کے علاقے بھونگ میں ہندو بچے کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کا کیا بنا؟۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایس ایچ او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اورمحکمانہ کارروائی جاری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایس ایچ او کا گرفتاری سے انکار نہ کرنا اعتراف جرم ہے، اعتراف جرم کے بعد شوکاز دیں اور فارغ کریں، انکوائری کی ضرورت نہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ پولیس افسر تعلقات کی بنیاد پر ایس ایچ او تعینات ہوتے ہیں،کارروائی سست روی سے ہوئی تو ایس ایچ او کہیں نکل جائے گا،تعلقات پر لگنے والا ایس ایچ او علاقے میں چوہدراہٹ کرتا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ یہ مسئلہ ہندو مسلم کا نہیں بلکہ انتظامیہ کی نیت کا ہے، ژوب میں مندر بحال ہوئے تو مقامی عالم مہمان خصوصی تھے۔ سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت سے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ مانگ لی اور کہا کہ آئی جی پنجاب بھی 1 ماہ میں رپورٹ جمع کرائیں۔ سپریم کورٹ نے مندر پر حملے کے ملزمان کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم دےدیا اور کہا کہ ملزمان کی شناخت کے بعد گرفتار بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے۔ملزمان کی شناخت کے بعد ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کیا جائے اورٹرائل کورٹ بغیر کسی التواء کے 4 ماہ میں فیصلہ یقینی بنائے۔ سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ آگاہ کیا گیا کہ مندر کے اندرونی حصے کی بحالی مکمل ہوچکی ہے اورمندر کے بیرونی حصے کو 1 ماہ میں مکمل کیا جائے۔  عدالت نے گاؤں بھونگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔ ازخودنوٹس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کردی گئی۔ جمعرات کو رحیم یارخان میں بھونگ مندر کے دورے کےموقع پر آئی جی پنجاب پولیس انعام غنی نے صحافیوں سے بات چیت کی ۔ انھوں نے بتایا کہ بھونگ میں گھنیش مندر سمیت امام بارگاہ کا دورہِ کیا۔ بھونگ دورے کا مقصد شیعہ اورہندو برادری کی سیکورٹی کو یقینی بنانا تھا۔ اقلیتوں سمیت تمام فرقوں کی حفاظت کرنا اہم ہے اورمقامی انتظامیہ کی کاوشوں سے ہندو برادری مطمئن ہےاور انھوں نےاطمینان کا اظہار کیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ بھونگ سے گئے ہندو برادری کے افراد کو گھر واپس آجانا چاہئے اور پولیس ان کو سیکورٹی فراہم کرے گی۔بھونگ کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں سب لوگ باہمی اتحاد سے رہتے ہیں اورحکومت پاکستان اور پنجاب پولیس اہل تشیع اور ہندو کمیونٹی کے ساتھ ہے۔ انعام غنی نے کہا کہ مندر کے نقصان پورا کردیا گیا ہے اور یہ پولیس اورانتظامیہ کی بہترین کاوش ہے۔پولیس کے پاس جو انفارمیشن آئے گی اس کی بنیاد پرکاروائی کریں گے۔اس سانحہ کی 3 ایف آئی آر درج کی ہیں اور تینوں ایف آئی آر میں ملزمان کو سزا دلائیں گے۔ آئی جی پنجاب نےواضح کیا کہ اس سے پہلے کبھی بھی کسی کوسزا نہیں ہوئی مگراب سزا ہوگی۔اس کےعلاوہ مدرسے کی انتظامیہ کی جانب سےدائرمقدمات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں اورجو شواہد ملے ہیں ان پر کاروائی جاری ہے۔سپریم کورٹ پہلے بھی ایسے معاملات کا نوٹس لے چکی ہے اور اقلیتوں کے لیے سیکورٹی پلان کی سمری وزیر اعلی پنجاب کو بھیج چکے ہیں۔ انعام غنی نے یقینی دلایا کہ اقلیتوں کی جتنی بھی عبادت گاہیں ہیں وہاں مستقل سیکورٹی دیں گے۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close