مینارپاکستان واقعہ: بے گناہ افراد کو رہا کرنے کا حکم، چونکا دینے والے انکشافات

مینارپاکستان واقعہ: بے گناہ افراد کو رہا کرنے کا حکم، چونکا دینے والے انکشافات

لاہور(ویب ڈیسک )لاہور میں دست درازی کا نشانہ بننے والی عائشہ اکرم کی شناخت پریڈ کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات سامنے آگئے جبکہ 98 بے گناہ افراد کو رہا کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق گریٹر اقبال پارک میں ٹک ٹاکرسے بد تمیزی کے کیس میں عدالت کا شناخت نہ ہونے والے 98 ملزمان کو کیس سے ڈسچارج کرنے کا حکم دیدیا گیا ہے۔تفتیشی افسر کے مطابق جن ملزمان کی شناخت پریڈ کے دوران شناخت نہیں ہوئی انہیں جیل میں رکھنے کا جواز نہیں ہے ۔اسداللہ خان کے مطابق پولیس نے کل ملزمان 155 تھے لیکن ان میں سے 104 ملزمان عائشہ اکرم سے بدتمیزی میں ملوث تھے جبکہ باقی افراد ایسے تھے جنہیں مینارپاکستان کا جنگلہ توڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور یہ ایف آئی آر عائشہ اکرم کے واقعے کے آگے پیچھے درج ہوئی تھی۔ ان ملزمان کا اگرچہ عائشہ اکرم واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن انہیں بھی شناخت کیلئے عائشہ اکرم کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ شناخت پریڈ کی صحت کا اندازہ لگایا جاسکے ۔عائشہ نے کل 10 افراد کو شناخت کیا تھا جن میں 4 ایسے بھی تھے، جن میں سے کوئی 6 ماہ سے جیل میں تھا توکوئی 2 سال سے جیل میں تھا اور انہیں شناخت پریڈ کے اصول کے تحت پکڑے گئے ملزموں میں شامل کیا گیا تھا۔ان ملزمان میں کوئی فراڈ کے مقدمہ میں 6 ماہ سے جیل میں تھا تو کوئی قتل کے الزام میں 2 سال سے جیل میں تھا۔اطلاعات کے مطابق کل ملزمان 155تھے لیکن ان میں ان میں مزید ملزمان کو شامل کرکے 300 کیا گیا، یہ ملزمان ایسے تھے جو 6 ماہ یا اس سے زائد جیل میں قید تھے۔ عائشہ اکرم نے اپنے 3 ساتھیوں بلال، ریمبو اور صدام کی موجودگی میں ملزموں کو شناخت کیا، عائشہ اکرم نے کل 10ملزموں کی طرف اشارہ کیا کہ یہ لوگ اس سے بدتمیزی اور نازیبا حرکات میں ملوث ہیں۔لیکن جب چیک کیا گیا تو 10 میں سے 4 ملزمان ایسے تھے جو 6 ماہ یا اس سے زائد عرصہ جیل میں رہے، جب عائشہ اکرم سے استفسار کیا گیا کہ یہ ملزمان تو 6 ماہ سے زائد عرصے سے جیل میں ہیں جس پر عائشہ نے کہا کہ میں نے تو صرف شک کی بنیاد پر انہیں شناخت کیا ہے کہ یہ ملوث ہوسکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق 6 ملزمان گریٹر اقبال پارک کی ویڈیوز سے شاخت کرکے پکڑے گئے تھے جن کی شناخت عائشہ اکرم نے بھی کی۔ان ملزمان میں شہریار، مہران، عابد، ارسلان، ساجد اور افتخار شامل ہیں۔ عائشہ اکرم نے ملزموں کے کردار بھی واضح کیے اور بتایا کہ افتخار نے اس کے کپڑے پھاڑے، ارسلان نے تشدد کیا، شہر یار نے دھکے دے کر جنگلے سے مارا، مہران نے زد و کوب کیا، عابد نے سیلفیاں لیں اور نازیباحرکات کیں جبکہ ملزم ساجد نے لڑکوں کو اکسایا۔جب جیل حکام سے استفسار کیا گیا کہ انہوں نے ایسے افراد جو موقع پر موجود نہیں تھے انہیں کیوں شامل کیا تو جیل حکام کا کہنا تھا کہ شناخت پریڈ کا اصول ہے کہ اس میں کچھ ایسے افراد بھی شامل کردیے جاتے ہیں جو موقع پر موجود ہی نہ ہوں تاکہ شناخت پریڈ کی صحت کا اندازہ کیا جا سکے۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close