میں 4 ماہ تک بیٹی سے نہیں ملتا تھا، جانیے عبدالقدیر خان اور ان کی فیملی سے متعلق وہ باتیں، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

میں 4 ماہ تک بیٹی سے نہیں ملتا تھا، جانیے عبدالقدیر خان اور ان کی فیملی سے متعلق وہ باتیں، جو بہت کم لوگ جانتے ہیں

دنیا میں ایسے کئی شخصیات ہیں جو کہ اپنے نام کی بدولت جانے جاتے ہیں، یہ مشہور شخصیات میڈیا کی خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں، کبھی مثبت پہلو سے تو کبھی منفی پہلو سے۔لیکن آج جس شخصیت کے بارے میں بات کرنے جا رہے ہیں، انہیں میڈیا وہ اہمیت نہیں دیتا جو کہ دینی چاہیے۔ عموما کسی خاص موقع پر ہی اس مشہور شخصیت کو یاد کیا جاتا ہے، جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ پاکستانی ہیں جنہیں مفتی اعظم کی جانب سے بھی ایٹمی طاقت بننے پر ان کی کوششوں کو سراہا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایک ایسی زندگی گزار رہے ہیں جسے دیکھ کر ہو سکتا ہے آپ لوگ بھی حیران ہو جائیں۔1936 میں بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فیملی ہندوستان سے 1947 میں پاکستان ہجرت کر لی تھی، اور پھر کراچی میں رہائش اختیار کر لی۔ محسن پاکستان نے کراچی کے مشہور کالج ڈی جے سائنس کالج میں داخلہ لیا اور اپنی پڑھائی کی شروعات کی۔ ڈی جے سائنس کالج کے بعد انہوں نے کراچی یونی ورسٹی سے فزکس میں ڈگری حاصل کی تھی۔کراچی یونی ورسٹی سے ڈگری لینے کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے سرکای نوکری بھی کی تھی، مگر مزید تعلیم کے لیے جرمنی جانا پڑا اور پھر سرکاری نوکری کو چھوڑ دیا۔ ایک سال تک سرکاری نوکری کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جرمنی کی ٹیکنیکل یونی ورسٹی برلن میں 4 سال گزارے، اور پھر 1965 میں ڈاکٹر صاحب نے نیدرلینڈز کی ایک یونی ورسٹی میں داخلہ لیا، جبکہ انہوں نے ڈاکٹریٹ کی سند ایک اور یونی ورسٹی سے حاصل کی تھی۔1974 میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نیوکلیئر پاور بننے کے لیے پلوٹونئیم کے استعمال کے بجائے یورینئیم کے استعمال کا مشورہ دیا تھا۔ جبکہ سپارکو کو بنانے میں ڈاکٹر صاحب نے اہم کردار ادا کیا تھا، اسکے علاوہ محسن پاکستان پر امریکہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے نارتھ کوریا کو بیلسٹک میزائل فارمولہ بیچا ہے۔ 22 اگست 2006 کو حکومت پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان پروسٹیٹ کیسنر میں مبتلا ہو گئے ہیں، جبکہ ان کا علاج جاری ہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھا کہ بھوپال آج بھی جنت ہے، میں نے بیرون ملک پڑھائی کسی اسکالرشپ کے ذریعے نہیں کی، بلکہ میں پڑھتا بھی تھا اور کام بھی کرتا تھا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنے روزمرہ کے دن کی شروعات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں صبح فجر کی نماز کے وقت اٹھتا ہوں، نماز پڑھتا ہوں، پھر بلیوں کو کھانا دیتا ہوں۔ اپنے اسٹاف کے لیے خود چائے بناتا ہوں اور انہیں دیتا ہوں، پھر بیگم بھی اٹھ جاتی ہیں۔ اس طرح ہم صبح چہل قدمی بھی کرتے ہیں ۔ جبکہ میں روز صبح تلاوت قرآن کرتا ہوں، اخبار کو پڑھتا ہوں۔ اس کے بعد ڈاکٹر اور نرس آتے ہیں اور وہ معائنہ کرتے ہیں کہ میں زندہ ہوں یا نہیں۔ پھر فزیوتھراپسٹ آکر مجھے ایکسرسائز کراتا ہے، اس طرح دوپہر کے بارہ بج جاتے ہیں۔اس کے بعد کچھ وقت ٹی وی دیکھتے ہیں اور پھر ظہر کی نماز پڑھتے ہیں۔ دوپہر کا کھانا اہلیہ کے ساتھ کھاتے ہیں۔ پھر اگر گرمی کا سیزن ہے تو بیگم کے لیے لسی بناتے ہیں اور اگر سردی کا سیزن ہے تو بیگم کے لیے چاکلیٹ بناتے ہیں۔ عبدالقدیر خان نے پسند کی شادی کی تھی، اہلیہ ہینی قدیر خان اور محسن پاکستان کی ملاقات جرمنی میں ہی ہوئی تھی، اور پھر پاکستانی سفارت خانے میں شادی کی تقریب ہوئی تھی۔ عبدالقدیر خان کہتے ہیں کہ مجھے کھانے میں بریانی، پراٹھے، شامی کباب، قورمہ، عربی کا گوشت اور بھنڈی بھی پسند ہے، جبکہ میں بہترین کھانے بناتا ہوں۔ جبکہ عبدالقدیر خان کہتے ہیں میری دو بیٹیاں ہیں، دونوں شادی شدہ ہیں۔ بڑی بیٹی دبئی میں رہائش پزیر ہے، جبکہ نواسی میرے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری بیٹی ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر رہتی ہے، جبکہ اس کے بھی تین بچے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اپنی بیٹیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے اس ملک کے لیے احسن اقدام کیا اور بدلے میں مجھے صلاح یہ ملا کہ میں اپنی بیٹیوں سے 4، 4 ماہ تک نہیں مل سکتا ہوں۔ ہمارے اوپر سیکیورٹی کا سخت پہرا ہوتا ہے۔ جبکہ کورٹ کے آرڈرز کے مطابق میں آزاد شہری ہوں، مگر پھر بھی میرے آگے پیچھے سیکیورٹی لگی ہے۔ اور لوگوں کو پریشان کر رہے ہیں۔ جبکہ بہترین لیڈر سے متعلق ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ غلام شاہ صاحب سے بڑھ کر کوئی محب وطن نہیں تھا.ڈاکٹر صاحب خوشی کے لمحات کے بارے میں بتاتے ہیں کہ سب زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب 28 مئی کو ایٹمی تجربہ کامیاب رہا جبکہ زندگی کے غمزدہ لمحے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے غمزدہ لمحہ یہی وقت لگتا ہے، جس طرح میرے ساتھ سلوک کیا جا رہا ہے، جو غدار ہے، ملک بیچ رہا ہے، اسے کچھ نہیں کہا جا رہا ہے، اور جس نے اتنا بڑا کارنامہ انجام دیا, اسے مشکلات جھیلنی پڑ رہی ہیں۔ اپنے پسندیدہ شاعر سے متعلق کہتے ہیں کہ مجھے غالب، مومن، علامہ اقبال، جگر مراد آبادی، فراز، فیض احمد فیض، پسند ہیں۔ ایک دوغزلیں ہر شاعر کی ایسی ملیں گی جس سے آپ تڑپ جائیں گے۔اپنے والدین سے متعلق کہتے ہیں کہ والد میرے استاد تھے، محلے کے بچوں کو بھی پڑھایا کرتے تھے، سماجی کاموں میں پیش پیش تھے۔ والدہ بھی میری غریبوں کی مدد کیا کرتی تھیں، غریبوں کو کلام حکیم پڑھایا کرتی تھیں، انہیں کپڑے دیا کرتی تھیں۔ فلاحی جذبہ میرے اندر بھی خاندان سے ہی ہے۔ اسی لیے میں اور میری بیگم کسی کو غمزدہ نہیں دیکھ سکتے ہیں، اگر کسی کو بھوکا دیکھتے ہیں، تو اپنے منہ کا نوالا دے دیتے ہیں۔ ایٹم بم بنانے کا مقصد صرف ایک ہی ہے کہ پاکستان پر کوئی آنچ نہ آئے۔ میں ہندوستان کی نفسیات سے واقف ہوں، وہ ہمیشہ جب بھی موقع ملے گا، پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔ اسی لیے ایٹم بم کا فائدہ دیکھیں کہ کوئی پاکستان کی طرف میلی آںکھ نہیں اٹھا سکتا ہے، وہ کئی بار سوچتا ہے۔جانوروں سے متعلق وہ کہتے ہیں کہ مجھے جانوروں سے بے حد پیار ہے، میرے گھر میں کتا بھی ہے، بلی بھی ہے اور بندر نہانے کے لیے اور پانی پینے کے لیے میرے گھر کے سوئمنگ پول میں آتے ہیں۔کئی سالوں پہلے اینکر نے سوال کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس دولت موجود ہے، جس پر ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ میں نے اپنی ساری دولت حکومت پاکستان کو دے دی ہے۔ اپنی پینشن سے متعلق وہ بتاتے ہیں کہ پہلے مجھے 4 ہزار 400 روپے پینشن ملتی تھی، مگر پھر 19 ہزار کر دی تھی۔ لیکن پھر اسپیشل پینشن بھی دی گئی ہے۔ جو میڈیا کی خبروں کی وجہ سے دی۔

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close