اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

آئندہ انتخابات الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے کرانے کا حکومتی فیصلہ فی الحال اپوزیشن کو قبول ہے نہ الیکشن کمشن آف پاکستان کو منظور، حکومت اپوزیشن کے بارے میں یہ کہہ سکتی ے کہ وہ “میں نہ مانوں ” کی روائتی پالیسی پر گامزن ہے، عمران خان نے مدمقابل سیاستدانوں کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ وہ حکومت کی نیت پر شک کرتے، اقدامات کی مخالفت کو کارثواب سمجھتے ہیں، عمران خان اگر کہے کہ سورج مشرق سے نکلتا، مغرب میں غروب ہوتا ہے تو اپوزیشن شاید اسے بھی “سلیکٹڈ” کی درفنطنی قرار دے۔ ؎

زاہد ثبوت لائے جو مے کے جواز میں

اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑ دے

الیکشن کمشن آف پاکستان کی مخالفت مگر سنجیدہ معاملہ ہے، قومی اور آئینی ادارے کے طور پر الیکشن کمشن آف پاکستان شفاف، غیر متنازع اور سب کے لئے قابل قبول انتخاب کرانے کا ذمہ دار ہے اور الیکٹرانک مشینوں پر اس کے تکنیکی نوعیت کے اعتراضات کا خاتمہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

گزشتہ روز وزارت سائنس اور الیکشن کمشن کی تکنیکی ٹیم کے مابین پہلی بار تبادلہ خیال ہوا تو کسی منچلے نے سوشل میڈیا پر یہ خبر شیئر کی کہ الیکٹرانک مشین پر 37اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ “مشین کے بٹن میں ایلفی ڈال کر اسے غیر فعال کیا جا سکتا ہے” الیکشن کمشن کے اس طرح مصرعہ پر یار لوگوں نے وہ وہ گرہ گرہ لگائی کہ مزہ آ گیا، حالانکہ الیکشن کمشن نے جو اعتراضات کئے ان میں یہ شامل نہیں، یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی اور یار لوگوں نے چار وانگ عالم میں پھیلا دیا، الیکشن کمشن کے زیادہ تر اعتراضات واقعی “ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا” ذہنیت کے آئینہ دار ہیں، مثلاً بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہیں ہوئی، قانونی ترامیم ضروری ہیں، تربیت یافتہ سٹاف کی کمی وغیرہ وغیرہ، اگلے عام انتخابات میں دو سال پڑے ہیں اور شفاف انتخابات کا انعقاد تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے، دو سال میں وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور سٹاف کی تربیت ممکن ہے اور قانونی ترامیم کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے، حکومت کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریت حاصل ہے وہ بآسانی قانونی ترامیم کا بھاری پتھر اٹھا سکتی ہے اگر دو سال تک الیکشن کمشن مشینوں کی ٹیسٹنگ اور عملے کی تربیت کا اہل نہیں تو یہ اس کی نالائقی ہے جس کا ذمہ دار حکومت کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

دو تین اعتراضات البتہ قابل توجہ ہیں جن کا تاحال حکومت یا وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کی طرف سے جواب سامنے نہیں آیا، چند ماہ قبل میں نے تجویز پیش کی تھی کہ وزارت سائنس آزمائشی بنیادوں پر کسی پریس کلب یا بار کونسل کے انتخابات ان مشینوں کے ذریعے کرائے۔ وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے ہامی بھری مگر عملدرآمد کی نوبت ابھی تک نہیں آئی، پاکستان میں خواندگی کی شرح کم ہے اور الیکٹرانک مشینوں کا استعمال محدود، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی ٹچ سکرین موبائل فون کی مختلف ایپس استعمال کرنے کے لئے دوسروں کے محتاج ہیں، پولنگ بوتھ پر ازخود الیکٹرانک مشین سے بیلٹ پیپر کے حصول، اپنی شناخت کو ظاہر کرنے اور پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے 90فیصد ووٹر کسی نہ کسی سہولت کار کے محتاج ہوں گے جو مشین کے قریب ان کی رہنمائی کے لئے موجود ہو، یہ ووٹ کی راز داری اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کے اُصول کی خلاف ورزی اور آئینی و قانونی خلا ہے جس کا مداوہ ہونا چاہیے۔ مشین کی تحویل، منتقلی اور حفاظت کی یقین دہانی بھی ایک مسئلہ ہے، جس ملک میں دھند کے بہانے پریذائیڈنگ آفیسر بیلٹ بکس لے کر گھنٹوں غائب رہنے کے عادی ہوں وہاں ان مشینوں کی تحویل اور بحفاظت منتقلی یقینا ایک مسئلہ ہو گی۔ الیکشن کمشن کا یہ اعتراض بھی معقول ہے کہ تمام تر عملدرآمد کا انحصار نجی کمپنیوں پر ہے جو بذات خود قابل اعتراض بات ہے، الیکشن کمشن کا دعویٰ ہے کہ شفافیت کی کمی کی وجہ سے جرمنی اور ہالینڈ جبکہ سکیورٹی تحفظات کی وجہ سے آئر لینڈ، اٹلی اور فن لینڈ نے مشینی ووٹنگ چھوڑ دی اور یہ مسائل ہمیں بھی درپیش ہوں گے۔

ووٹ کی راز داری کا اہتمام اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا انتظام کون، کیسے کرے گا؟ یہ حکومت کا درد سر ہے، وہی الیکشن کمشن کو مطمئن کرے اور سیاسی جماعتوں، عوام اور میڈیا کو بھی، اگر حکومت اور الیکشن کمشن الیکٹرانک مشینوں کے ذریعے انتخابات کرانے میں یکسو ہوں تو پھر سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا آسان ہو گا لیکن اگر حکومت کے آئیڈیا سے الیکشن کمشن ہی مطمئن نہیں جو بنیادی طور پر شفاف آزادانہ اور غیر جانبدارانہ، انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے تو عمران خان کی مخالفت پر کمر بستہ اپوزیشن کیسے قائل ہو گی؟ اپوزیشن کے اطمینان اور تعاون کے بغیر الیکشن قوانین میں تبدیلی ممکن ہے نہ الیکٹرانک مشینوں کا استعمال آسان، ظاہر ہے مقصد جب انتخابات کا غیر متنازع، شفاف انعقاد ہے تو اپوزیشن کے خوش دلانہ تعاون کے بغیر یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا، حکومت یقینا نیک نیتی سے مشینوں کا استعمال چاہتی ہے، عمران خان تھرڈ ایمپائر کا تجربہ کرنے پر تُلے ہیں مگر جب تک فریق مخالف مطمئن نہ ہو، مشینوں کا استعمال ممکن نہیں، قانون سازی حکومت اپنے طور پر کر سکتی ہے، اربوں روپے کی مشین خرید کر انہیں پولنگ سٹینوں تک پہنچانا آسان ہے۔ مگر سیاسی جماعتوں، امیدواروں، پولنگ ایجنٹوں اور ووٹروں کو ان کے استعمال پر آمادہ کرناکارے دارد۔ عمران خان فواد چودھری اور شبلی فراز کو جدید ٹیکنالوجی سے عشق ہے اور وہ ہر قیمت پر الیکٹرانک مشینوں کا استعمال چاہتے ہیں مگر الیکشن کمشن کے معقول اعتراضات رفع اور اپوزیشن کو قائل کرنا؟

یہ عشق نہیں آسان، بس اتنا سمجھ لیجیے

اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

Share

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

close