عجیب لوگ

یہ وفا اُن دنوں کی بات ہے
جب مکان کچے اور لوگ سچے ہوا کر تے تھے
آج لکھنے کے لیے بیٹھی تو بہت سے موضوع ایسے تھے جن پر گفتگو ہوسکتی تھی مگر نہ جانے کیو بچپن کا دور اُن سب موضوعات پر حاوی ہوگیا ۔وہ بھی کیا دور تھا جب یہ تصورہی خوشی کی انتہاﺅں پر لے جاتا تھا کہ گرمیوں کی چھٹیوں میں نانی کے گھر کے بڑے صحن میں جو امرود کا درخت لگا ہے وہ کتنا بڑا ہو گیا ہوگا ۔جو نیم کا درخت پر جھولا لگا ہے سب کزنز مل کر جھولا جھولا کریں گے ۔ کتنے عجیب لوگ تھے نہ جو دوسروں کی خوشی سے خوش ہوتے تھے اور دوسروں کے غم سے غمگین ہوجاتے تھے موجودہ دور میں دیکھتی ہوں توعقل اور ذہن دونوں اس کشمکش میں گتھم گتھا ہوجاتے ہیں کہ آج ہم جس ماحول میں جی رہے ہیں یہ تو اُس دور سے قدرے ذیادہ سہولت زدہ ہے، آج ہم لاکھوں میل دور بیٹھے انسان سے بھی ایک فون کال کی دوری پر موجود ہیں ۔ آج ہم دنیا کے کسی بھی کونے پر موجوردہوں اپنے کسی پیارے کو دیکھنا چاہتے ہوں تو سوشل میڈیا کے ذریعے دیکھ سکتے ہے ۔ کام میں اتنی آسانیاں آگئی ہے کہ مہینوں کا کام دنوں اور دنوں کا کام گھنٹوں پر پہنچ گیا ہے ۔ کمپیوٹرنے اتنی آسانیاں کردیں ہیں کہ حساب کتاب کے معاملے میں کسی چیز کی رکاوٹ موجود نہیں جد ید ٹیکنالوجی نے اگر اتنی آسانیاں دے دی ہیں اُس کے باوجود بھی زندگی میں سکون کیو نہیں ہے ۔ کل ایک تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں پر تقریباً 80سے 85سال کی ایک عمر رسیدہ خاتون موجود تھیںمیں اتفاقاً اُن کے پاس ہی بیٹھ گئی ۔ تھوڑی دیر بعد ایک جوان لڑکی آئی اور کھانے کے لوازعات پر بحث کرنے لگی ۔ اور وہ لڑکی اُنھیں باتیں سنا رہی تھی کہ ماںجی عجیب ہو آپ کو اتنا بھی نہیں پتا کے کھانے کے مینرزکیا ہیں ۔ چونکہ میں یہ ماجرہ دیکھ رہی تھی تو میں سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ وہ عجیب لوگ آج کے دور کے دکھاوا کرنے والے لوگوں سے تو قدرے بہتر تھے ۔ وہ سادہ ضرور تھے مگر منافق نہیں تھے ۔ وہ دور اور وہ عجیب لوگ اتنے سادہ تھے کہ گاﺅں کے کسی گھر میں کوئی پریشانی ہوتی تو پورا گاﺅں اپنی جان لڑا دیتا اُس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پھر کیا ہوا کہ جدید ٹیکنالوجی آگئی آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے میل جول کم ہونے لگا اور ٹیلی فون پر رابطے شروع ہوگئے دوسروں کی پریشانیوں میں شانہ بشانہ ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے ایک ٹیلی فون کال مناسب سمجھی جانے لگی ہمسائیوں کے گھر جانے کو غیر اخلاقی حرکت سمجھا جانے لگا ، یہاں تک کہ اپنے گھر کے ساتھ والے گھر میں فاقوں نظر انداز کرتے ہوئے بینکوں میں لاکھوں روپے جمع کروائے جانے لگے ، رشتوں میں محبت اپنایت سے زیادہ منافقت دیکھائی جانے لگی ۔ یہاں تک کہ آج ہم جس معاشرے میں جی رہے ہیں میرا تجربہ ہے اُس میں 90%ہم اپنے قریبی رشتوں پر اعتماد ہی نہیں ہے ان سارے مثائل کا حل اگر آج بھی ہم چاہیں تو مل ہی سکتا ہے ۔ اگر آج کے دور میں بھی ہم اُن عجیب لوگوں کو تھوڑا سا سوچ کر زیادہ نہیں تو اس حد تک اُن جیسا بننے کی کوشش کریں ۔ کہ ٹیلی فون سے زیادہ رشتوں کو اہمیت دیں facebookمیں اچھائی کے کام کو لائک اور کمنٹ کرنے سے زیادہ ہمسائیوں کی زندگی میں اگر کوئی مفلسی ہے تواُس کو دور کریں تو شاید کل یہ چیزیں ہماری بخشش کا ذریعہ بھی بن جائیں اور ہم اپنی نظر میں بھی سُر خرہرسکیں ورنہ آج سے لاکھوں سال کے بعد بھی ہم اُن عجیب لوگوں کے سامنے آٹے میں نمک کے برابر بھی قابل نہیں ہو نگے چاہے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہم چاند پر پہنچ چکے ہیں لیکن انسانیت کی لسٹ میں وہ عجیب لوگ سرِفہرست رہیں گے ۔
کالم نگار: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے