آزادی

14 اگست… جشن آزادی پاکستان وہ دن جب بالآخر ہمارے بزرگوں کی انتھک محنت اور قربانیوں کے بعد یہ ارض پاک ہمیں حاصل ہوئی زمین کے
اس ٹکڑے کے پیچھے لاکھوں قربانیوں کی داستانیں ہیں جنہیں لکھنا چاہوں تو الفاظ کم پڑ جائیں

ملا نہیں وطنِ پاک ہم کو تحفے میں
جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا

مگر افسوس آج ہمیں آزادی منانا تو یاد رہا مگر آزادی کی قدر کرنا یاد نہیں رہا سال کے ایک دن سبز ہلالی پرچم کو گھروں پہ لٹکا لینے سے یا ملی نغموں کے اسٹیٹس لگانے سے ان لاکھوں کروڑوں شہداء کے مقدس خون کا حق ادا نہیں ہوسکتا ہم ایسی قوم ہیں جس سے حب الوطنی پہ لمبی لمبی تقریریں تو کروائی جاسکتی ہیں مگر جب عمل کی باری آئے تو ہم سب صفر ہیں
ہمیں جاب نہ ملے تو ہم محنت سے اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کی بجائے باہر جاکے کوئی معمولی کام کرنا پسند کرتے ہیں جبکہ ارض پاک پہ رہ کے کوئی ایسا کام کرنا ہمیں اپنی توہین لگتا ہے ہم اپنی فوج پہ بجٹ کھا جانے اور کرپشن کرنے کے الزامات لگاتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ دنیا کی نمبر ون آرمی ہے جس کے جوانوں نے قیام پاکستان سے لے کے اب تک ہر ہر موقع پر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے دے کہ دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد کرایا ہے اور پاکستان کی طرف اٹھتی ہر میلی نگاہ کو پھوڑا ہے
ہم صفائی کو نصف ایمان تو سمجھتے ہیں مگر کسی عوامی جگہ پہ جا کے کوڑا کرکٹ کوڑے دان میں پھینکنے کو اپنی توہین اور وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں ہم ایمانداری کا درس تو دیتے ہیں لیکن کسی بھی عوامی جگہ پہ پڑے واٹر کولر کا جائزہ لے لیں آپکو اسکا گلاس ساتھ بندھا ہوا ملے گا ہماری مساجد سے جوتے چوری ہو جاتے ہیں تو جب ہم ان اسلامی اقدار کو بھول چکے ہیں جن کی پاسداری کے لیے یہ ملک بنایا گیا تھا پھر 14 اگست کو پٹاخے چلانے اور ایک دن کے لئے جھنڈیاں لگا کے بعد میں کئی دنوں تک انہیں پاؤں تلے روندنے کا کیا فائدہ ہم نے وطن عزیز کے ساتھ بھی اتنا منافقانہ رویہ اختیار کیا ہے کے اگست کے مہینے میں گاڑی پہ پاکستان کا جھنڈا جبکہ گاڑی کے اندر انڈیا کے گانے لگاتے ہیں وہ کشمیر میں ہمارے معصوم بہن بھائیوں کے ساتھ جانوروں سے برا سلوک کر رہا ہے اور ہم ہیڈ لائنز میں معصوم کشمیریوں کی شہادتوں کی داستانیں سن کے ایک لمحے کے افسوس کے بعد کوئی انڈین چینل لگا کے انکے ڈراموں کی ریٹنگز بڑھاتے ہیں
زندہ قومیں اپنے محسنوں کی قدر کرتی ہیں مگر ہم اس معاملے میں بھی بدقسمت ٹھرے کہ ہمیں اپنے محسنوں کی قدر کرنی نہیں آئی قائداعظم محمد علی جناح جن کی انتھک محنت سے یہ وطن معرض وجود میں آیا اور اس قوم نے بجائے انکو سر آنکھوں پہ بٹھانے کے انہیں خراب ایمبولینس میں روانہ کیا اور یہی نہیں بلکہ انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو غدار ملت کہہ دیا اور اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شاعری نوجوان نسل کو پڑھانے کی بجائے ملک کے معماروں کو محبوب کی زلفوں میں اور مسٹر چپس جیسے فضول ناولز میں الجھا کے رکھ دیا ایسے اقوام ترقی نہیں کرتی دنیا میں انہی اقوام نے ترقی کی ہے جنہوں نے اپنے محسنوں کی قدر کی ہے لیکن یہ صرف تصویر کا ایک رخ ہے قیام پاکستان سے لے کے اب تک اللہ نے اس مملکت کو ایسے لوگوں سے بھی نوازا ہے جنہوں نے اس کی حفاظت کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دی ہے اور جب الوطنی کی ایسی ایسی مثالیں قائم کی ہیں کے دیکھنے والے دنگ رہ گئے ہیں ایسے لوگ بھی اسی سرزمین پہ پائے جاتے ہیں جنہوں نے ہر محبت سے اولین دھرتی ماں کی محبت کو رکھا ہے پروین شاکر نے ایسے لوگوں کی کیا خوب ترجمانی کی ہے

بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اِس خا ک سے ہے

چونکہ ہمارے وطن کی بنیاد ،لا الہ الا اﷲ ہے ہمارے بزرگوں نے پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگا کے یہ وطن حاصل کیا تھا تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وطن سے محبت ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پہ بننے والے اس ملک کی سچے دل اور صاف نیت سے خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ( آمین )

زلزلوں کی نہ دسترس ہو کبھی
اے وطن تیری استقامت تک
ہم پہ گزریں قیامتیں لیکن
تو سلامت رہے قیامت تک

کالم نگار: وشاح محمود

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے