حسد کی آگ

زبان چلنے لگی لب کشائی کرنے لگے
نصیب بگڑا تو گونگے بھی برائی کرنے لگے
ہمارے قد کے برابر نہ آسکے جو لوگ
ہمارے پاؤں کے نیچے کھدائی کرنے لگے

گزشتہ روز ایک دوست کی سالگرہ کی تقریب تھی تو اُدھر جانا ہوا، تقریب سے فراغت ہوئی تو بس اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔ ایک دوست بولی مجھے لگتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ برائیاں نکوٹین کی طرح ہیں وہ بھی چائے میں موجود نکوٹین جس کے ہم خود تو عادی ہوتے ہیں کہہ کہہ کر اپنے ساتھ والوں کو بھی اِس میں مبتلا کردیتے ہیں۔ چائے سے چونکہ مجھے بھی عشق تھا اور چائے کی ایڈکشن کیا ہوتی ہے، میں وقف بھی تھی۔ اس لئے تھوڑی سی مسکراہٹ کو دباتے ہوئے میں نے لقمہ دبا کے ہاں کہہ تو ٹھیک رہی ہو مگر یہاں بنیادی مسئلہ بڑا دلچسپ اور گھمبیر تھا۔ ہم سچ میں نہیں جان پاتے کہ کچھ برائیوں اور غیر اخلاقی اقدارکو تو ہم نے ہائی لائٹ کرتے ہیں لیکن کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو بڑی خاموشی سے اپنی جڑیں گاڑ لیتی ہیں اور سب سے خطرناک وہ چیزیں ہوتی ہیں۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ایک اور دوست بولی مجھے لگتا ہے، بیماری اور برائی دونوں میں کچھ خاص فرق نہیںکچھ اچھوتی بیماریاں ہوتی ہیں جو چھونے سے بھی منتقل ہوجاتی ہیں، خود کیلئے بھی خطرے کا سبب اور دوسرے کیلئے بھی اسی طرح کچھ برائیاں بھی اچھوتی ہوتی ہیں، جو آگے سے آگے منتقل ہوتی ہیں، گفتگو سنجیدہ ہوتے دیکھ کر مہمان نواز نے گفتگو کا رخ اپنی طرف موڑ لیاکہ بات چائے کی ایڈکشن سے شروع ہوئی تھی تو یہ بس چائے پئیں اور ذہن کو تسکین دلائے۔ خیر ہنسی مذاق میں بات ختم ہوتی میں واپس گھر کو آگئی، شام میں سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے ایک ہی چیز تھی دماغ میں کہ واقع ہی سوچا چائے تو معاشرے میں بگاڑ کی وہ چیزیں جو ہمیں نظر آتی ہیں اور ہم اُن پر روک تھام کی کوشش بھی کرتے ہیں وہ تو اتنی خطرناک نہیں ہیں جتنی وہ چیزیں خطرناک ہیں واضح طورپر نظر نہیں آرہی ہوتیں۔ اُن میں جو سب سے قابل غور ہے وہ حسد ہے، حسد کس قدر آسانی سے ہمارے معاشرے میں اپنی جڑیں گاڑ چکا ہے اور سب سے حیران کن اور قابل غور بات یہ ہے کہ ہم اُن کو خود اپنی اگلی آنے والی نسلوں میں منتقل کررہے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کے سامنے بیٹھ کر اپنے بہن بھائیوں کی برائیاں اُن سے حسد کررہے ہوتے ہیں، جوبچوں کے ذہنوں میں نقش ہو جاتی ہیں اور اسی طرح وہ سمجھدار ہونے سے پہلے ہی اُن چیزوں میں خود کو الجھا چکے ہوتے ہیں، حسد کا نقصان سب سے بڑا جو ہے وہ یہ ہے کہ یہ خود ہی بہت بڑی بیماری ہے، جو مزید بہت سی بیماریوں کو پیدا کرتی ہے، حاسد انسان نہ کہ دنیا کی نظر میں ذلیل ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بھی گنہگار ہے کیونکہ وہ دنیا سے اختلاف سے پہلے اللہ تعالیٰ سے اختلاف کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی تقسیم سے اختلاف کرتا ہے کہ اللہ نے فلاں کو اتنا کیوں دیا مجھے کیوں نہیں دیا اور اللہ کی تقسیم پر شک و شبہ کرنا تو گناہ عظیم ہے، پھر ہم حسد میں اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ اُس میں ہم کسی بھی رشتے کا لحاظ نہیں کرتے، بس چھینا جھپٹی میں لگ جاتے ہیں اور دیکھا جائے تو دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا کیا جانے والا گناہ حسد ہے جس نے قتل جیسے ناقابل فراموش گناہ کو جنم دیا۔ دنیا میں خوش رہنے والے ممالک پر نظر ڈالی جائے تو ناروے پہلے نمبر پر ہے جبکہ ڈنمارک دوسرے نمبر، آئس لینڈ تیسرے، سویٹرزلینڈ چوتھے اور فن لینڈ پانچویں نمبر پر ہے۔ اسی لسٹ کے مطابق پاکستان80 ویں نمبر پر آتا ہے اور بھارت122 نمبر پر۔ لیکن یہاں اگر حاسد لوگوں کے اوپر اور حسد کرنیوالے ممالک کی لسٹ بنائی جائے تو میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستان پہلے نمبر پر آئے گا۔

یہاں ایک چٹکلہ ذہن میں آگیا مزاح کے طور پر آپ کو سنائے دیتی ہوں، ایک بندے کا انتقال ہوجاتا ہے جب فرشتے اُس سے سوالات کے لیے آتے ہیں تو اُس کی کوئی ایک خواہش پوچھتے ہیں وہ کہتا مجھے دوزخ دیکھنی ہے، فرشتے اُس کو لے جاتے ہیں وہ وہاں دیکھتا ہے کہ ہر ملک کے الگ گڑے بنے ہوتے ہیں جس میں دوزخی چیخ رہے ہوتے ہیں اور ہر گڑھے کے باہر دو فرشتے پہرا دے رہے ہوتے ہیں لیکن ایک جگہ ایسی آتی ہے یہاں کوئی فرشتہ موجود نہیں ہوتا وہ پوچھتا ہے اس کے باہر کوئی پہرا دار کیوں نہیں تو فرشتے کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کا حصہ ہے یہاں کسی کے پہرے کی ضرورت نہیں ہے یہ لوگ کسی کو خود ہی باہر نہیں نکلنے دیتے، اگر کوئی باہر نکلنا چاہتا ہے تو دوسرا اُس کو ٹانگ سے کھینچ کر واپس گھسیٹ لیتا ہے، یہ تو بات تھی مزاح کی لیکن اگر ہم حقیقت پر نظر دوڑائیں تو بھی ایسا ہی ہے کہ ہم کسی کی ترقی دیکھ ہی نہیں سکتے، ہم خود اپنے ساتھ والے لوگوں سے حسد کررہے ہوتے ہیں، سب سے زیادہ حسد وہ کرتے ہیں جو ہماری خوبیوں سے واقف ہوتے ہیں، اگر آج ہم پاکستان کے حالات دیکھیں تو یہاں بھی تقریباً90 فیصد مسائل حسد کی وجہ سے پیدا کیے گئے ہیں، تمام سیاسی جماعتیں آپس میں حسد رکھتی ہیں ایک دوسرے پر سانپ کی طرح کنڈلی مارے بیٹھی ہیں اپنے اس آپسی حسد میں غریب عوام تو بالکل فراموش کیے ہوتے ہیں صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مشغول ہیں اور خول چڑھایا ہوا ہے پاکستان کے بہترین مستقبل کا۔ پاکستان کا حالیہ دور اگردیکھا جائے تو اتنا خوفناک ہے کہ ہم اگر جائزہ لیں تو ہم اپنے بچوں کو اس ملک میں کیا مستقل دے رہے ہیں ہم تو اپنے خاندان میں ایک دوسرے سے اتنا حسد کرتے ہیں کہ اگر کوئی بھی ترقی کی کسی منزل پر پہنچ رہا ہوتا ہے تو وہ اپنے رشتے داروں سے پہلے چھپاتا ہے۔ قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا ہے کہ حسد کرنے والے کے شر سے بچو۔ کیونکہ حسد نہ کہ انسان کی دنیاوی خوشیوں کو تباہ کرتا ہے بلکہ آخرت کو بھی تباہ و برباد کردیتا ہے۔

ایک جگہ فرمایا گیا کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح سوکھی لکڑی کو آگ۔
آج ہم دنیا بھر کے مسلمانوں کو دیکھیں تو مسلمان ہر جگہ کسی نہ کسی طرح تکلیف میں ہیں۔ کہیں دھماکے کی زد میں مسلمان کچلے جارہے ہیں، توکہیں بیماری کی صورت میں اور جہاں ایسی کوئی مشکل نہیں وہاں حسد کی صورت میں مسلمان ہی مسلمان کا دشمن بنا بیٹھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہماری نسل کو اس وباءسے بچائے۔ (آمین )

کالم نگار: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے