کافر کون

تنقید کرنا ہر انسان کا حق ہے لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ تنقید کرتے وقت تہذیب کو مدِنظر رکھنا بہت ضروری ہے، کہ جب آپ تنقید کررہے ہوتے ہوتو اپنا نقطہ نظر بیان کررہے ہوتے ہو وہ نقطہ نظر جتنا اچھے طریقے سے واضح کریں گے سننے والے کو سمجھ بھی آئے گی اور وہ عمل پیرابھی ہوگا، آج لکھنے بیٹھی تو ذہن بہت ساری سوچوں میں الجھا بکھرا ہوا تھا، اُنہیں سوچوں کے گھیراؤ میں کاغذ پینسل لے کر بیٹھ گئی، جیساکہ میں پہلے واضح کرچکی ہو کہ میرے لکھنے کا مطلب کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا نہیں ہے، نہ میں کسی بھی صحیح اور غلط کی بحث میں جاناچاہتی ہوں کیونکہ میرا ناقص علم مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا، ایک ادنیٰ سی لکھاری ہونے کی حیثیت سے میں صرف اپنی سوچ اور اپنا نقطہ نظر بیان کرناچاہتی ہوں، گزشتہ دوتین روز سے سوشل میڈیا پر عجیب سے منظر دیکھنے کو آرہے ہیں اور ایسی ایسی تحریریں دیکھنے کو مل رہی ہیں جو خاص کر میرے جیسی بندی کا دل دہلانے کیلئے کافی ہیں، پورے سوشل میڈیا پر آج کل (توکافرتوکافر) کی جنگ چھڑی ہوتی ہے، میں سوچتی ہوں کہ ہم کیسے کسی بھی کلمہ گو کو کافر کا ٹیگ لگاسکتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ کہنا ناپسندیدہ عمل ہے کہ کسی کلمہ گو کو کافر کہہ دیاجائے، اسلام کے بنیادی فرائض میں اللہ کو ایک ماننا، نبی پاک ﷺ کو اللہ کا آخری نبی ماننا، قرآن پاک کو اللہ کی آخری کتاب ماننا، قیامت کے دن پر یقین رکھنا، تو جو انسان اِن عقائد پر پورا اُترتا ہوتو کیسے ہم اُس کو کافر کہہ سکتے ہیں، کیا ہمارا دین اسلام ہمیں یہ ہی سکھاتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو کافر ٹھہرائیں اور کافر ہماری اِن حرکات کو دیکھ کر خوش ہوں،ایک مسلمان ہونے کے ناطے اسلام کی پیروی کرنا اور اسلام کی تعلیم ٹھیک طریقے سے دوسروں تک پہنچانا ہمارا فرض اول ہے، لیکن اس تعلیم میں یہ بات تو نہیں آتی کہ آپ یاہم کسی ایک بنیادی اختلاف پر کافر جیسا لفظ بول دیں، جس دن سے محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوا ہے، ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک الگ جماعت تشکیل دے دی ہے جو کربلا کا درس نہیں دے رہی بلکہ تو کافر توکافر کا کھیل کھیل رہی ہے، کیا ہمارے ایمان اس قدر مکمل ہے ہم اس قدر پارسہ ہیں کیا ہمارے پاس اپنے احتساب کے بعد اتنا وقت بچتا ہے کہ ہم کسی دوسرے پر یہ تنقید کرسکیں، میدانِ کربلا میں نبی پاکﷺ کے گھرانے پر کیا ظلم ہوا، یہ بتانے کی بجائے ہم اپنے بچوں کے ذہنوں میں کیا فٹ کررہے ہیں، میں کسی ایک مکتبہ فکر کی بات نہیں کررہی، میں ہماری ساری کمیونٹی اور کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والے ہر اُس مسلمان کی بات کررہی ہوں جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول ، اللہ کی کتاب پر ایمان رکھتا ہے، کہ محرم میں اپنے بچوں کو صرف کربلا کا درس دیں ایک دوسرے کیلئے نفرت پھیلانے کے لیے پورا سال پڑا ہوا ہے، ہم ایک دوسرے کو حقیر دکھانے میں اس قدر محو ہیں کہ ہم یہ بھی بھول چکے ہیں، کہ یہ وہ دن گزررہے ہیں جس میں نبیﷺ کے گھرانے پر ظلم کی انتہاءکی گئی تھی، اہل تشیع اپنے شیعہ ہونے پر فخر محسوس کررہے ہیں اور بریلوی حضرات اپنے اہل سنت ہونے پر، یہاں تک کہ ہر فرقہ صرف اپنے طریقے سے اپنی ضرورت اور اپنے آپ کو چمکانے کیلئے اسلام کو بیان کرنے پر لگا ہوا ہے، کیا ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ پاک ہستیاں جنہوں نے اس اسلام کو بچانے کیلئے اپنی اوراپنی اولاد کی قربانیاں دے دیں، ہم اُن کی قربانیوں کا صلہ کیا دے رہے ہیں، جنہوں نے اپنے سر تو کٹوا لیے مگر یزید کی بیت نہیں کی، صرف اس اسلام کو روشن رکھنے کیلئے اُس اسلام میں ہم کیا چیزیں لے کر آگئے ہیں، کیا ہم نے کبھی اس جنگ سے باہر نکل کر دیکھا ہے کہ ہم اپنے گھر میں اپنی نسلوں کو لے کر کس سمت پر جارہے ہیں، کیا ہم محرم الحرام کا احترام اُس طریقے سے کررہے ہیں کہ انہوں نے وہ قربانیاں دی کیوں تھی، آج بھی دعا زمین اور آسمان کے درمیان اُس وقت تک اٹکی رہتی ہے جب تک اُس میں ہم درود پاک نہیں پڑھتے، اللہ تعالیٰ کے نبی پر درود نہیں بھیجتے، آج بھی ہم اپنی دعا میں آپﷺ کے وسیلے سے قبول کرواتے ہیں، قیامت کے دن بھی جب ہم پریشان ہونگے تو اللہ کی رحمت کے بعد نبی پاکﷺ کی ذات مبارک ہوگی جو ہمارے کام آئے گی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ آپﷺ کی آل آپﷺ کی بیٹی جن کو آپ نے کہا فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، اُس جگر کے ٹکڑے کے جگر کے ٹکڑے اس طرح میدان کربلا میں پامال ہوئے، تو نبیﷺ کچھ نہ کرسکتے، اللہ کی رحمت کو جوش نہ آتا،لیکن ایسا ہونا تھا، تاریخ میں لکھاجاناتھا، مسلمانوں کو رہتی دنیا تک بتانا تھا کہ اسلام اتنی آسانی سے امت تک نہیں آیا نبی ﷺ کے گھرانے نے کئی قربانیاں دی ہیں، ہم اپنے فرقوں کی بحث میں پڑکر اُن اقدار کو بھول گئے ہیں، ہم نے ہر چیز ایک الگ فرقے سے منسلک کردی ہے، میرا خیال ہے کہ ہم فرقہ وارایت سے ہٹ کر بھی سوچیں تو کربلا تو ہر فرقے کی کتاب میں ہے، تو ہم اُس کی یاد میں زیادہ نہیں تو کچھ روز احترام کیلئے اپنی دوسری سرگرمیوں کو منسوخ کردیں، آج آپ ٹک ٹاک سٹارز جنہیں ہم کہتے ہیں، وہ اپنے مسلمان ہونے کا احتراماً کیا ثبوت دے رہے ہیں اور کیا پوری دنیا کو دکھا رہے ہیں، ہمارے ٹیلی وژن چینل چاہے دس دن کیلئے ہی سہی اپنے ڈرامے بند نہیں کرسکتے ہر چیز کو فراموش کرکے صرف ہم نے زور دیا ہوا ہے کافر کون کی بحث پر۔ میرا ادنیٰ سا ذہن اِن ساری چیزوں پر غور کرتے ہوئے جو لکھنے پر مجبور ہوا وہ صرف اتنا ہے کہ واقعہ کربلا سے پہلے ہی تمام انبیاءاکرام نے قاتل امام حسینؓ پر لعنت کی ہے، تو محرم الحرام صرف اہل تشیع کے اماموں کانہیں ہے، رسولﷺ کے نواسوں پر کیے گئے ظلم کا مہینہ ہے، اس میں غم اور احترام تو کریں، گھر میں بچوں کو بتائیں کے محرم میں نبی ﷺکے گھرانے کے ساتھ کیا ہوا تھا، اسلام کا درس تو دیں، اپنی روز مرہ کی روٹین میں نبی پاکﷺ کے گھرانے کی یاد میں نماز، قرآن دعا تو کریں اور خدارا کافر مسلمان کی جنگ سے ہٹ کر اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں، باقی کا مسئلہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔
کالم نگار: ہومیوپیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے