دعاؤں سے آگے

کہتے ہیں کسی علاقے میں ایک کسان نے گندم کا بیج بویا ، کچھ دنوں بعد اُس کے ایک دوست نے اُسے مشورہ دیا کہ بے وقوف اگر تم گندم کی جگہ باجرہ اُگاتے تو فائدے میں رہتے۔
چونکہ ہم غریب لوگوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہمیں لوگ مفت میں مشورے بہت دیتے اور اُس کے بعد ہم اپنی عقل کو سائلنٹ پر لگاکر اُسی مشورے کے پیچھے ہولیتے ہیں، خیر اُس کسان کو کبھی یہ احساس ہونے لگاکہ اُسے گندم کی بجائے باجرہ کاشت کرلینا چاہیے تھا اُس سے زیادہ فائدہ اور نفع ہوتا۔ وہ بیچارہ ابھی پریشانی کے عالم میں بیٹھا ہی تھاکہ اُس کا ایک اور دوست آگیا اور سارہ ماجرہ پوچھا تو کسان نے تمام حقیقت بتائی اُس نے دوست کو مشورہ دیا کہ اگر تم یہ چاہتے ہوکہ تمہارا گندم کا بیج بھی ضائع نہ ہو اور باجرہ بھی اُگ آئے تو فلاں پیر صاحب ہیں اُن کے پاس جاؤ اور اُنہیں سارا ماجرہ سناؤ، اگر تو اُنہوں نے پانی دم کرکے دے دیا تو سمجھوں تمہارا مسئلہ حل ہوگیا۔
دل میں یہی آس ہے وہ پیر صاحب کے پاس پہنچا اور اپنی حالت بیان کی اور مداوا کرنے کی استدعا کی، پیر صاحب جن کی اپنی فصل ٹھیک سے پروان نہیں چڑھ رہی تھی اُنہوں نے اُس کسان کو کہاکہ کھاد کی دو بوریاں لے آؤ اور دربار عالیہ کے درمیان میں جو احاطہ ہے اُس میں ڈال دو ہم خصوصی دعا کریں گے اور گندم کے بیج پر باجرہ کی فصل اُگ آئے گی۔
ترقی پذیر ممالک کی بستی میں جہاں سارے مسائل ہیں وہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اِن تمام ممالک کے باشندوں کو تعلیم و تربیت اور عملی محنت سے دور رکھا جاتا ہے اور دعاؤں پر لگادیا جاتا ہے۔
دینی علماءکالج سکول کے پروفیسر محنت سے زیادہ دعاؤں پر لگادیتے ہیں کہ دعاکرو مسائل حل ہوجائیں گے۔ اولاد نہیں دعا کرو، اولاد کی تعلیم و تربیت ٹھیک سے نہیں کرتے اُس پر توجہ نہیں دیتے کہ ہماری اولاد کس طرح کے لوگوں میں اُٹھ بیٹھ رہی ہے ہاں جب وہ بگڑ جاتی ہے تو دعا ضرور کرلیتے ہیں۔
ماں کہتی ہے کہ دعاکرو کے تمہارے والد کو زیادہ پیسے ملیں تاکہ تمہیں اچھے کپڑے بناکے دیں، دعاکرو کہ گیس آجائے تاکہ کھانا بناکے دیاجاسکے، دعا کرو کے بجلی آجائے، تاکہ پانی بھرسکیں، سکول میں اُستاد کہتے تھے کہ دعا کرو کہ امتحان میں تاخیر ہوجائے تاکہ مزید تیاری ہوسکے۔ دعاکرو کہ امتحان کی چیکنگ والا اُستاد رحم دل ہوتا کہ اچھے نمبر آجاتے، یہ ہی سب کرکے کالج پہنچ گئے، بڑے ہوئے تو کرکٹ کا شوق ہوا تو اُس کے لیے دعا ئیں کیںاپنی ٹیم کے جیتنے کیلئے بھی دعا کرنی، موسم گرما آتا تو بارش ہونے کی دعا اور اگر برسات کے موسم میں بارش زیادہ ہوجاتی تو بارش کے تھمنے کے لیے ڈھیروں دعائیں کرنی، غرض کہ زندگی کے ہر ایک موڑ پر اپنی محنت سے بڑھ کر دعاؤں کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
دعاؤں سے تقدیریں بدلتی ہیں اِس میں کسی قسم کا کوئی بھی شک نہیں ہے لیکن ہمیں صرف دعاؤں پر لگادیا گیا ہے، عملی طور پر نہ تو حکومت کچھ کررہی ہے نہ ہی عوام۔ یہاں مجھے نادر حریص کا ایک شعر یاد آگیا۔
گھروں میں بیٹھے ہوئے کامیابی چاہتے ہیں
ہمیں دعاؤں کا چسکا لگادیا گیا ہے
تو بات کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ جب تک عوام اور حکومت مل کر محنت اور کوشش نہیں کریں گے تو صرف دعا کی بنیاد پر یہ ملک کے مسائل حل نہیں ہوسکتے، یہ مسائل جوں کے توںپڑے رہیں گے۔
کالم نگار: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

One comment

  1. Very nice – keep it up

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے