خونخوار جانور

جنگل میں جھاڑیوں کے بیچ ایک ننھی بچی کی مسخ شدہ لاش پڑی ہے ۔ جنگل کے سب ہی جانور اِس کے گرد جمع ہیں ۔ یہ جانور بت کی طرح ساکت ہیں لیکن اِن کی آنکھیں نم ہیں اُپر درخت پر گدھ جو خوراک کی تلا ش میں کہی دور سے اُڑتا ہوا آیا تھا اپنے بوجھل پروں کے ساتھ واپس لوٹ گیا چڑیا نے آج بچوں کو بھوکا سُلا دیا ۔اُ دھر دوسری طرف لال آنکھوں والا بھیڑیا اور جنگلی کُتا زارو قطار رو رہا ہیں ۔ جنگل کی بیرونی سرحد پر بورڈ لگا ہوا ہے ، احتیاط کریں آگے خونخوار اور وحشی جانوروں سے واسطہ پڑ سکتا ہے ۔ جنگل کے باہر تعلم یافتہ ،مہذب ،شہر کی سرحد شروع ہوتی ہے جہاں انسانیت کھڑی ذور دور سے قہقہے لگا رہی ہے ۔ اس ساری تمہید کے بعد گزارش صرف اتنی ہے کے کیا ہمارے معاشرے میں پروان چڑھتے یہ خونخوار بھیڑیے اُن خونخوار درندوں سے کم ہیں ۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ وہاں پر جنگل کی حدود کا بورڈ لگا دیا جاتا ہے کہ یہاں سے خطرہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہاں تو کھلم کھلا انسانیت کو نوچہ جارہا ہے اور اُس کے بعد چار دن وہ حیوا نیت وہ درندگی کے خلاف سوشل میڈیا کی تنظیم اتحاد کرتی ہے شورمچاتی ہے ٹویٹ کرتی ہے وہ سٹوری سکرول کرتی ہے اور پھر ایک نئی کہانی اُس کی جگہ لے لیتی ہے اورمیرا سوال یہ ہے، اُ ن تنظیموں کے علمدار سے جو ابھی بھی کہہ رہے ہیں کے عورت گھر سے باہر کیوں نکلی ۔ اگر عورت کے ساتھ کسی قسم کی ذیادتی ہو رہی ہے تو وہاں پر قصور بھی اُسی عورت کا ہی ہے کہی نہ کہی اُس کو عورت ہونے کے نام پر یہ سزا دی گئی ہے ۔ تو پہلا سوال یہ ہے ہمارے ہی معاشرے میں جو درندے نا بالغ بچیوں کو اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں آج بھی تھانوں میں دس میں سے چارکیس ان ہی کے متعلق ہیں کیا وہ چھ سال آٹھ سال بارہ سال کی بچی اِن کو اپنی ادائیں دکھاتی ہے تو یہ اُس طرف راغب ہوتے ہیں ،اُن پر تو پردہ بھی واجب نہیں۔سوشل میڈیا پر ہر بندہ اپنے نظر سے ان چیزوں کو دیکھتا ہے ۔ لیکن اس کا حل کیا ہے ہمارا قانون ہمارے قانون کے علمدار اِس کے اُپر کیا کا م کر رہے ہیں کیوں ایسے انسان کو بازارکے بیچ چو را ہے میں لٹکا کر پھانسی کیوں نہیں دی جاتی کیوں انہیں عبرت کا نشانہ نہیں بنایاجاتاکہ آئندہ سے کوئی اپنی ایسی حرکت کے بارے میں سوچے بھی تو اس کے انجام سے روح کانپ جائے یہاں میرا سوال اُن قانون کے محافزوں سے بھی ہے کیوں پر دفعہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ پولیس اہلکاروں سے عام آدمی جائع وقوعہ پر پہلے پہنچتاہے ۔ سعادت حسین منٹو نے کیا خوب کیا تھا بات تو کڑوی تھی لیکن تھی سچی ہمارے ہاں عزت کی حقدار صرف گھرکی عورت کو سمجھا جاتا ہے باقی عورتیں ہمارے نردیک صرف گوشت کی دکانیں ہیں ۔ کب تک ہمارے معاشرے میں یہ چیزیں رہے گی ۔ کب تک اسلامی ملک میںمکمل اسلامی طریقے کا ررائج نہیں کیا جائے گا ۔ کل ایک tweetپڑھ رہی تھی جس میں لکھا تھا کہ بنگلادیش جج نے زبردستی زنا میں ملوث سولہ ملزموں کو سزا سنا تے ہوئے ریمارکس میں لکھا کہ یہ پاکستان نہیں ، یہ خبر سچ تھی یا جھوت یہ اللہ جانے لیکن یہ جس نے بھی لکھی اُس نے اسلامی ریاست میں قانون کے علم داروں کے منہ پر ایک ذور دار تماچہ مارا ہے۔
کالم نگار: ہومیوپیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے