مکافاتِ عمل

نہ چاہاتھا برا میں نے ،نہ میں نے بددعادی تھی

فقط نمناک آنکھوں سے فلک کی سمت دیکھا تھا

اپنے اردگردروز مرہ کی روٹین میں اپنے معاشرے کو تباہ کرتے ہوئے بہت سے مسائل جہاں دیکھتی ہوں اور اُن پر غور و فکر کرتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ جہاں معاشرے میں بکھری ہوئی بہت سی ایسی برائیاں، جن کو کبھی تو ہم غیر ملکی لوگوں کی سیاست کانام دے دیتے ہیں تو کبھی سوشل میڈیا کی سازش، کسی پر غیر مسلم کا فتویٰ جاری کرتے ہیں تو کبھی کسی پر ظالم کا ٹیگ لگاتے ہیں۔ ایک مسلمان ہونے کی اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے قرآن کو صرف پڑھتے ہیں وہ بھی صرف پڑھنے کی حد تک سمجھتے نہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کی تخلیق سے لیکر دنیا کے فنا تک کی ساری صورتحال اس میں آنیوالی دکھ، تکالیف، زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط بڑے واضح طور پر سمجھا دئیے ہیں اور پھر بڑے کھلے الفاظ میں فوائد و نقصانات بھی بتائے ہیں کہ زندگی کیسے گزارو، اگر اللہ کے بتائے گئے احکامات کے مطابق گزارو گے تو انعام کے طور پر جنت میں جاو¿ گے نہیں تو جہنم میں، ہم اگرانسان کی اوسط زندگی پر نظر دوڑائیں تو ریسرچ کے مطابق60 سے70 سال ہے، باقی زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے، لیکن یہاں ہم بات کررہے ہیں معاشرے میں بگڑتی صورتحال کی۔ اس60 سے70 سال کی عمر میں ہم ہر اچھائی کرنے والے کا صلہ اور برائی کرنے والے کا انجام دیکھتے ہیں۔ انسان پر کون سا عذاب نہیں آیا۔ یہ تو نبی پاکﷺ کی نسبت اُن کی برکت سے ہم کہیں نہ کہیں اُس طرح سزا نہیں پارہے ورنہ دنیا میں ہی ہماری حالت دیکھنے کے قابل نہ ہوتی۔ باقی نبیوں ؑکی اُمتوں پر جو جو عذاب آئے کسی کی شکل بدل دی گئی تو کسی پر حشرات کو مسلط کردیا گیا، لیکن یہاں غور طلب چیز جو ہمارے سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ہم پھر بھی سمجھ کیوں نہیں پاتے ہم کیوں اتنے ظالم ہوچکے ہیں۔ ہر دوسرے روز سوشل میڈیا پر کوئی نہ کوئی ظلم کی ایسی داستان رقم ہوتی ہے کہ انسانی عقل سمجھنے سے قاصر ہوتی ہے کہ اللہ پاک اس اُمت پر آخر کیوں عذاب نہیں بھیج رہا، ورنہ جتنا ظلم معاشرے میں پھیل چکا ہے وہ تو سوچ سے بھی بالاتر ہے، ہم نے انسانوں کو تو دور کی بات حیوانوں کو بھی نہیں بخشا اُن کو بھی اپنے ظلم کا حصہ بنالیا ہے۔ جب لکھنے بیٹھتی ہوں تو سوچتی ہوں کے بہت سے مسائل ہیں، اِن سب مسائل پر بات کروں گی لیکن آج جو نقطہ سامنے آیا وہ صرف ظالم اور مظلوم، اِن دوالفاظ کے گرد ہی گھومتا ہے، اور اِن دونوں لفظوں کو آپس میں ایک چیز بہت سختی سے جکڑ دیتی ہے وہ ہے مکافات عمل، میں سوچتی ہوں کہ ایک انسان جس پر ظلم ہورہا ہے یا کسی بھی بات پر اُس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے وہ روتا ہے، چیختا ہے بولتا ہے، آہ و پکار کرتا ہے۔ اس سب سے بھی اگر اُسے سکون نہیں ملتا تو اپنے ساتھ کی گئی زیادتی کے بدلے میں بددعا دیتا ہے یابدلہ لیتا ہے تو اُس کے دل کو تسلی ملتی ہے۔ کہتے ہیں نہ جب آپ کسی چیز کی کھوج میں گے ہوتو اللہ پاک آپ کو راستے بھی دکھاتا ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کا سوال ہوگا کہ ایسا کیسے کے ایک بندہ بہت ظلم کرتا ہے اور اُس کے باوجود بھی اللہ اُس سے روٹی نہیں چھینتا اُس کو دولت بھی دیتا ہے، اُس کی زندگی میں آسانیاں بھی ہوتی ہیں اور ایک مظلوم ہے، وہ ظلم بھی برداشت کرتا ہے اور زندگی کی مشکلات بھی۔ تو اوپر میں نے آپ کو ظالم اور مظلوم کی ایک قسم بتائی ہوں یہاں دوسری قسم پر بھی تھوڑی سی روشنی ڈالتے ہیں، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
قرآن پاک کی ایک آیت ایسی ہے جو ظالم کے دل پر تیز اور مظلوم کے دل پر رکھا ہوا مرہم ہے۔ کسی نے پوچھا وہ کونسی آیت ہے تو آپ نے فرمایا:
(وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا)
اور تیرا پروردگار بھولنے والا نہیں۔ (سورہ مریم)
بس یہ وہ جگہ تھی جہاں سارے گلے شکوے سب تکالیف ختم ہوجاتی ہیں کہ بے شک میرا رب بہترین انصاف کرنے والا ہے کہ جب آپ بدلہ نہیں لیتے اور اللہ پر چھوڑتے ہوتو یقین جانو معجزے ہوتے ہیں۔ اللہ پاک ایسے ایسے معجزے کرتا ہے کہ آپ دھنک رہ جاتے ہو اور یہاں سے شروع ہوتی ہے مکافات عمل کی کہانی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ میں اُس وقت تک نہیں معاف کروں گا جب تک میرا بندہ نہ معاف کردے،لہٰذا اِس سارے سمندر کو کوزے میں بند کیے دیتی ہوں کہ معاشرے میں پھیلتی باقی برائیوں پر جہاں نظر رکھتے ہو۔ اپنے اعمال و افعال و حرکات سے کسی پر زیادتی نہ کریں وہ زیادتی چاہے الفاظ کی حد تک ہو یااغمال سے، کیا پتہ سامنے والا صبر کرجائے اور سوچو اگر تم سے کسی نے اپنی کی گئی زیادتی کا بدلہ نہ لیا اور اس نے صبر کرکے فیصلہ رب کے حوالے کردیا تو کیا مکافات عمل سے بچ پائیں گے، کیونکہ اُس کی عدالت سے تو بچت ہوگی ہی ناممکن۔ اس لیے ظالم کو سوچ لینا چاہیے کہ چاہے ظلم اس قدر ہوجائے کہ آسمان کے سرے سے جالگے پھر بھی مظلوم کے ساتھ ایک کڑی اسے جکڑے رکھے گی وہ مکافات عمل ہے ۔

یہ بھی دیکھیں

انسانی خواہشات

زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ایک بات جو کہ بہت غور طلب …

loading...

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے