پاکستان کا مطلب کیا( لا الہ الا اللہ)

وہ چند ہی تو لوگ تھے جنہوں نے اسی نعرے کو زندگی کی سی اہمیت دی تھی جن کے لیے پاکستان کا مطلب صرف ایک الگ ملک نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا تھا جو یہ نہیں چاہتے تھے کہ انگریزوں کے بنائے گئے ہندوؤں کے بنائے گئے اصولوں کے مطابق زندگی گزاری جائے، جن کا خواب تھا کہ ایک الگ ایسی ریاست موجود ہو جس میں وہ باآواز بلند اذان دے سکیں، جس میں نماز تراویح، جمعہ سکون سے ادا کیا جائے، جہاں اللہ تعالیٰ کے ذکر کیلئے کسی کی اجازت نہ لینی پڑے، جو ایک مکمل اسلامی ریاست ہو، پاکستان کا بننا اور اتنے خوبصورت مہینے میں الگ ریاست کا عمل میں آنا آپ کو کیا لگتا ہے یہ اتفاقاً تھا نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا سے تھا، پاکستان کے عمل میں آنے سے اس کے خواب سے لے کر اُس کی تشکیل تک کتنی مشکلیں کتنی تکالیف برداشت کی، کیا آج ہم اس آزادی کے ماحول میں اس فضا میں جب اپنی مرضی سے کچھ بھی کرتے ہیں کہیں پر بھی جاتے ہیں ایک پاکستانی کی حیثیت سے جب بات کرتے ہیں اور منہ اُٹھا کر جب یہ چیز کہہ دیتے ہیں کہ اس ملک نے ہمیں دیا ہی کیا ہے۔ اس سے بہتر تو ہم امریکہ، کینیڈا میں ہوتے یہ کہنے سے پہلے ایک دفعہ بھی کبھی یہ سوچا ہے کہ کتنی مصیبتیں برداشت کی ہمارے بڑوں نے اسی ایک لفظ کے پاس رکھنے کیلئے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں کہ آج ہم جس معاشرے میں موجود ہیں اپنے بچوں کو پروان چڑھتا دیکھ رہے ہیں، کیا یہ وہ ہی ملک وہ معاشرہ ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا،ایک الگ ملک کو اس لیے بنانے کا سوچا گیا تھا کہ اس میں ہم ایک دن ویسٹرن کلچر کو پروموٹ کریں گے، ہم نام کی حد تک دکھاوے کی حد تک پاکستان کے مطلب کو سمجھتے ہیں۔ کیا آزادی کا مطلب صرف چاند ستارہ بناکر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے کی حد تک ہے، کیا آزادی فیس بک، انسٹاگرام اور وٹس ایپ کی پروفائل کی تصویر بدلنے کا نام ہے، ہم تو اس حد تک لاپرواہ اور بے حس ہوچکے ہیں کہ پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہوئے گاڑی میں انڈین گانے لگائے ہوتے ہیں۔ کیا یہ آزادی ملی ہے کہ موٹرسائیکل کے سائلنسر نکال کر میرے پاکستان کا جھنڈا باندھ کر سڑکوں پر دندناتے پھرنے کا نام آزادی ہے، آج آپ اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر ڈالیں تو آپ کو لگتا ہے یہ وہ پاکستان ہے جس کا نعرہ ہی انتہائی پاکیزہ ہے، کیا خواتین کے لباس سے آپ کو لگتا ہے کہ ہم اس نعرے کا پاس رکھ رہے ہیں۔ ہم نے لبرلزم کی آڑ میں پاکستان کے نعرے کا مطلب ہی بدل دیا، دوسرے ممالک میں ہمارے بارے میں کیا سوچا جاتا ہے، ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں ہے، ہمیں تو ترقی کی اُس دوڑ میں شامل ہونا ہے، پھر چاہے اُس دوڑ میں اول آنے کیلئے ہمیں اسلام پاکستان حیا اور اپنی شفاقت کی دھجیا اُڑا کر آگے پڑھنا پڑے، ہر دفعہ14 اگست آتی ہے، ہم سفید اور سبز رنگ کا لباس بناکر پاکستانی ہونے کا حق ادا کردیتے ہیں، لیکن کیا سوچا ہے کہ کتنی جانوں کی قربانی ہے،اس کے پیچھے، پاکستان کے اِن سات حروف کے پیچھے ہمارے کتنے جوانوں کا خون ہے، اس کے لیے بڑے بڑے اولیاءکی گردنیں کٹیں، کتنے غازی ان سات حروف کا پاس رکھتے ہوئے دنیا سے چلے گئے، توپوں کے منہ پر ہمارے جوانوں کو باندھ کر توپوں کو چلایا گیا کہ تم کہتے ہو (لا الہ الا اللہ) اُنہوں نے کہا ہاں ہم کہتے ہیں تم کہتے ہو ہم انگریز کی غلامی نہیں کریں گے اُنہوں نے کہا ہاں ہم کہتے ہیں، کیا ہم نے کبھی ہسٹری پر نظر دوڑائی ہے، کیا آج ہم جس پاکستان میں موجود ہیں یہ وہ ہی پاکستان ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ اگر ہم اُن قربانیوں پر غور کریں گے تو کبھی بھی14 اگست والے دن کو ناچ گانے اور سبز جھنڈے تک محدود نہیں رکھیں گے بلکہ عملی طور پر اس نعرے کا مکمل حق ادا کریں گے، پھر چاہے وہ سوشل میڈیا میں ہو یا ہماری روزمرہ کی زندگی میں، ورنہ دنیا میں تو ہم دوسرے ممالک کیساتھ لباس اور برانڈز کی ریس میں شاید آگے بڑھ جائیں، لیکن بروزِ حشر پاکستان کے اُن علمداروں کو کیا منہ دکھائیں گے کہ جس پاکستان کے مطلب پر انہوں نے اپنے گھر بار لٹا دئیے، ہم اُس کا کیا حال کرکے آئے ہیں۔
اللہ پاک ہمیں ایک سچا پاکستانی بننے کی توفیق عطاءفرمائے۔ (آمین)

کالم نگار: ہومیو پیتھک ڈاکٹر زوبیہ شفیق

Check Also

انسانی جبلت اور پیسہ

کبھی کبھی سوچتی ہوں پیسہ کتنی عجیب شہ ہے زیادہ ہو تب نیندیں اُڑا دیتا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے